کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
ابوعمرو قرشی حضرت عثمان بن عفان کے مناقب کا بیان۔
حدیث نمبر
3430
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي بِحِفْظِ بَابِ الْحَائِطِ فَجَائَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَإِذَا أَبُو بَکْرٍ ثُمَّ جَائَ آخَرُ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَإِذَا عُمَرُ ثُمَّ جَائَ آخَرُ يَسْتَأْذِنُ فَسَکَتَ هُنَيْهَةً ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَی بَلْوَی سَتُصِيبُهُ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَالَ حَمَّادٌ وَحَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ وَعَلِيُّ بْنُ الْحَکَمِ سَمِعَا أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَی بِنَحْوِهِ وَزَادَ فِيهِ عَاصِمٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ قَاعِدًا فِي مَکَانٍ فِيهِ مَائٌ قَدْ انْکَشَفَ عَنْ رُکْبَتَيْهِ أَوْ رُکْبَتِهِ فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ غَطَّاهَا
سلیمان حماد ایوب ابوعثمان حضرت ابوموسیٰ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول ﷲ صلی ﷲ علی وسلم کسی باغ میں تشریف لے گئے اور مجھ کو دروازہ کی حفاظت کا حکم دیا پھر ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت طلب کی آنحضرت صلی ﷲ علی وسلم نے فرمایا اس کو اجازت دے دو اور اس کو جنت کی بشارت بھی دے دو، دروازہ کھول کر میں نے دیکھا تو وہ ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تھے پھر ایک اور شخص نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا اس کو بھی آنے کی اجازت دو اور اس کو بھی جنت کی بشارت دے دو دروازہ کھول کر دیکھا تو وہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تھے پھر ایک اور شخص نے اجازت مانگی تو رسول ﷲ صلی ﷲ علی وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے اور اس کے بعد فرمایا کہ اس کو آنے کی اجازت دو اور اسکو جنت کی بشارت دو اس مصیبت پر جو اس کو پہنچے گی دیکھا تو حضرت عثمان بن عفان تھے اور عاصم نے اتنا اور زیادہ کیا ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علی وسلم ایک ایسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے جہاں پانی تھا آپ نے اپنے دونوں گھٹنے یا ایک کھول دیئے پھر جب حضرت عثمان آئے تو آپ نے ان کو چھپا لیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment