کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
ابوعمرو قرشی حضرت عثمان بن عفان کے مناقب کا بیان۔
حدیث نمبر
3433
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَی قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ مَنْ هَؤُلَائِ الْقَوْمُ فَقَالُوا هَؤُلَائِ قُرَيْشٌ قَالَ فَمَنْ الشَّيْخُ فِيهِمْ قَالُوا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ إِنِّي سَائِلُکَ عَنْ شَيْئٍ فَحَدِّثْنِي هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ وَلَمْ يَشْهَدْ قَالَ نَعَمْ قَالَ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ تَعَالَ أُبَيِّنْ لَکَ أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ کَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَتْ مَرِيضَةً فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَکَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ کَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَکَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ مَکَانَهُ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ وَکَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَی مَکَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَی هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَضَرَبَ بِهَا عَلَی يَدِهِ فَقَالَ هَذِهِ لِعُثْمَانَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ اذْهَبْ بِهَا الْآنَ مَعَکَ
موسیٰ ابوعوانہ عثمان بن موہب سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مصر والوں میں سے آیا اور اس نے حج کیا بیت ﷲ کا تو ایک جگہ چند لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھ کر کہا یہ کون لوگ ہیں؟ کسی نے کہا یہ قریش ہیں اس نے پوچھا ان کا شیخ کون ہے؟ لوگوں نے کہا عبد ﷲ بن عمر اس شخص نے ابن عمر کی طرف متوجہ ہو کر کہا ابن عمر! میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں تم اس کا جواب دو کیا تم کو معلوم ہے کہ عثمان جنگ احد میں بھاگ گئے تھے ابن عمر نے کہا ہاں! ایسا ہی ہوا تھا پھر اس نے پوچھا تم کو معلوم ہے کہ عثمان بدر کے معرکہ سے غائب تھے اور جنگ میں شریک نہ تھے ابن عمر نے کہا ہاں! پھر اس نے کہا تم کو معلوم ہے کہ عثمان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بیعت رضوان میں بھی شریک نہ تھے اور غائب رہے ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا ہاں! اس پر اس شخص نے ﷲ اکبر کہا تو ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا کہ ادھر آئیں تجھ سے حقیقت حال بیان کروں احد کے دن عثمان کا بھاگ جانا تو اس کے متعلق یہ ہے کہ خدا نے ان کے اس قصور کو معاف فرما دیا اور ان کو بخش دیا اور بدر کے دن عثمان کا غائب ہونا اس کا واقعہ یہ ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی پیاری صاحبزادی (حضرت رقیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا) ان کی بیوی تھیں اور وہ (اس زمانہ میں) بیمار تھیں (آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کو ان کی خبر گیری کے لئے مدینہ میں چھوڑ دیا) اور فرمایا عثمان کو بدر میں حاضر ہونے والے شخص کا ثواب ملے گا اور مال غنیمت میں سے بھی پورا حصہ ملے گا رہا بیعت رضوان سے عثمان کا غائب رہنا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر مکہ میں عثمان سے زیادہ ہر دل عزیز با عزت کوئی شخص ہوتا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اسی کو مکہ روانہ فرماتے لیکن ایسا نہ تھا اس لئے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مکہ روانہ کیا اور ان کے جانے کے بعد بیعت رضوان کا واقعہ پیش آیا اور بیعت کے وقت آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کو اٹھا کر کہا یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر اس ہاتھ کو اپنے دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا یہ عثمان کی بیعت ہے اس کے بعد ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا تو میرے اس بیان کو لے جا جو میں نے تیرے سامنے دیا ہے یہی بیان تیرے سوالا ت کا مکمل جواب ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment