Sunday, April 17, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:923,Total no:3459


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ داروں کا بیان جن میں ابوالعاص بن ربیع بھی ہیں۔
حدیث نمبر
3459
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ قَالَ إِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَسَمِعَتْ بِذَلِکَ فَاطِمَةُ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَزْعُمُ قَوْمُکَ أَنَّکَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِکَ وَهَذَا عَلِيٌّ نَاکِحٌ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ يَقُولُ أَمَّا بَعْدُ أَنْکَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي وَصَدَقَنِي وَإِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي وَإِنِّي أَکْرَهُ أَنْ يَسُوئَهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَتَرَکَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مِسْوَرٍ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَکَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَی عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَی لِي
ابوالیمان شعیب زہری علی بن حسین حضرت مسور بن مخرمہ رضی ﷲ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی نے ابوجہل کی لڑکی سے منگنی کر لی تو حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا یہ سن کر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا آپ کی قوم کا خیال ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کی حمایت میں خفا نہیں ہوتے اسی لئے تو علی نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے کی بات چیت مکمل کر لی ہے یہ سن کر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پہلے تشہد پڑھا اور پھر فرمایا کہ میں نے ابوالعاص بن ربیع سے (اپنی لڑکی کا) نکاح کر دیا تو ابوالعاص نے جو بات مجھ سے کہی سچ کہی فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا یقینا میرے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اور میں اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اس کو کوئی صدمہ یا تکلیف پہنچے خدا تعالیٰ کی قسم! رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی بیٹی اور عدو ﷲ کی بیٹی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں پس حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ منگنی چھوڑ دی ایک دوسری روایت میں علی بن حسین (حضرت زین العابدین) سے مروی ہے- انہوں نے حضرت سعد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے خود رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے قبیلہ عبد شمس والے اپنے داماد کا ذکر کیا اور ان کی تعریف و تو صیف بیان کر کے فرمایا انہوں نے جو بات مجھ سے کہی سچی کہی اور مجھ سے جو وعدہ کیا اس کو پورا کیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment