کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر
3328
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرٌ قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ أَبِي تَرَکَ عَلَيْهِ دَيْنًا وَلَيْسَ عِنْدِي إِلَّا مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ وَلَا يَبْلُغُ مَا يُخْرِجُ سِنِينَ مَا عَلَيْهِ فَانْطَلِقْ مَعِي لِکَيْ لَا يُفْحِشَ عَلَيَّ الْغُرَمَائُ فَمَشَی حَوْلَ بَيْدَرٍ مِنْ بَيَادِرِ التَّمْرِ فَدَعَا ثَمَّ آخَرَ ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ فَقَالَ انْزِعُوهُ فَأَوْفَاهُمْ الَّذِي لَهُمْ وَبَقِيَ مِثْلُ مَا أَعْطَاهُمْ
ابو نعیم زکریا عامر حضرت جابر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد کا انتقال ہوا اور ان پر کچھ قرض تھا- میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرے والد نے اپنے اوپر کچھ قرض چھوڑا ہے- اور میرے پاس بجز اس کے جو ان کے کھجور کے درختوں سے پیدا ہو کچھ نہیں ہے- اور اس کی پیداوار کئی کئی سال تک ان کے قرض کی ادائیگی کے لئے کافی نہ ہو گی لہذا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ چلئے تا کہ قرض خواہ مجھ پر سختی نہ کریں- چناچہ حضور تشریف لے گئے اور ان کھجور کے ڈھیروں میں سے ایک کے گرد گھومے اور دعا کی پھر دوسرے ڈھیر پر (ایسا ہی کیا) اس کے بعد ایک ڈھیر پر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ چھوہارے نکالو، چناچہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا قرض پورا کر دیا اور جتنا ان کو دیا اتنے چھوہارے بچ بھی رہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment