کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
حبشیوں کا قصہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ اے نبی ارفدہ کا بیان۔
حدیث نمبر
3278
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًی تُغَنِّيَانِ وَتُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَکْرٍ فَکَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ دَعْهُمَا يَا أَبَا بَکْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ وَتِلْکَ الْأَيَّامُ أَيَّامُ مِنًی وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَی الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُمْ أَمْنًا بَنِي أَرْفِدَةَ يَعْنِي مِنْ الْأَمْنِ
یحییٰ لیث عقیل ابن شہاب عروہ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ منی یعنی زمانہ حج میں میرے پاس دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی گا رہی تھیں اور دف بجا رہی تھیں اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم چادر اوڑھے ہوئے آرام فرما رہے تھے کہ اتنے میں ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے آ کر دونوں کو ڈانٹا نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ کھول دیا اور فرمایا ابوبکر ان کو چھوڑ دو کیونکہ یہ عید کا زمانہ ہے اور منی کے دن ہیں- حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مجھے چھپائے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کی طرف دیکھ رہی تھی کہ وہ لوگ مسجد میں (پھینک پٹے کے) کرتب دکھا رہے تھے جہاں حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کو ڈانٹا تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انہیں رہنے دو اور اے بنی ارفدہ تم نہایت اطمینان سے فن سپہ گری میں مشغول رہو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment