Saturday, April 16, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:790, Total Hadith no: 3326


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر
3326
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَکِ مِنْ شَيْئٍ قَالَتْ نَعَمْ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتْ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَلَاثَتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آرْسَلَکَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ بِطَعَامٍ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ قُومُوا فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّی جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ فَقَالَتْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّی لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَکِ فَأَتَتْ بِذَلِکَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُکَّةً فَأَدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَکَلَ الْقَوْمُ کُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا
عبد ﷲ مالک اسحق بن عبد ﷲ بن ابی طلحہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حضرت انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا- ابوطلحہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ (انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی والدہ کے دوسرے شوہر) نے ام سلیم (انس کی والدہ) سے کہا کہ میں نے (آج) رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی آواز کو کمزور اور سست پایا ہے- میرے خیال میں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بھوکے ہیں- کیا تمہارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز ہے؟ ام سلیم رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا ہاں ہے یہ کہہ کر ام سلیم نے جو کی چند روٹیاں نکالیں- پھر اپنی اوڑھنی لی اور اس میں ان روٹیوں کو لپیٹا اور چھپا کر میرے ہاتھ میں دے دیں- اور کچھ اوڑھنی مجھے اڑھا دی اس کے بعد مجھے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بھیجا- حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں گیا تو میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو مسجد میں دیکھا- آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ اور لوگ بھی تھے- بس میں (خاموش) کھڑا ہوا تھا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! پھر دریافت کیا کھانا دے کر بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے جو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے فرمایا کہ اٹھو چلو! آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (بمعہ لوگوں کے) چلے میں بھی آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے آگے آگے چلا اور ابوطلحہ کے پاس پہنچ کر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دی اور ابوطلحہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم سے کہا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ لوگ ہمارے پاس تشریف لا رہے ہیں- اور اتنا سامان نہیں کہ ہم ان (سب کو) کھلا سکیں ام سلیم نے کہا! ﷲ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں- ابوطلحہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ (استقبال کے لئے) گھر سے باہر نکلے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے ملاقات کی پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ تشریف لائے پھر حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ام سلیم جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ- ام سلیم وہی روٹیاں جو ان کے پاس تھیں لے آئیں- اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کے ٹکڑے کریں- (چناچہ ان کو ریزہ ریزہ کیا گیا) اور ام سلیم نے کپی میں سے گھی نچوڑا جو سالن ہو گیا- پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے کچھ پڑھ کر دم کردیا- اس کے بعد آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دس دس آدمیوں کو بلاؤ چناچہ دس آدمیوں کو بلا کر کھانے کی اجازت دی گئی اور انہوں نے پیٹ بھر کر کھا لیا پھر جب یہ اٹھ گئے تو دس کو اور بلایا گیا- یہاں تک کہ اسی طرح تمام لوگوں نے پیٹ بھر کر کھا لیا یہ سب ستر یا اسی آدمی تھے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment