کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف کا بیان
حدیث نمبر
3308
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَکَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ بِهَا
عبد ﷲ بن یوسف مالک ابن شہاب عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے آسان کام کو اختیار فرما لیتے اگر وہ گناہ نہ ہوتا اگر وہ کام گناہ (کا سبب) ہوتا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے تھے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے (کبھی کسی بات میں کسی سے) انتقام نہیں لیا مگر ﷲ تعالی کی حرمت کے خلاف (کوئی) کام کیا جاتا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ضرور خدا کے لئے اس کا انتقام لیتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment