کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
حدیث نمبر
3240
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْمَدِينَةَ آخِرَ قَدْمَةٍ قَدِمَهَا فَخَطَبَنَا فَأَخْرَجَ کُبَّةً مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ مَا کُنْتُ أُرَی أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا غَيْرَ الْيَهُودِ وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ الزُّورَ يَعْنِي الْوِصَالَ فِي الشَّعَرِ تَابَعَهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ
آدم شعبہ عمرو بیان کرتے ہیں کہ سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان جب آخری مرتبہ مدینہ منور آئے تو ہمارے سامنے خطبہ پڑھا اور ایک مصنوعی بالوں کا گچھا نکالا اور یہ کہا میں نہ سمجھتا تھا کہ بجز یہود کے کوئی ایسا کرتا ہو گا اور یقینا رسالت مآب نے اس کا نام زور رکھا ہے یعنی بالوں میں جوڑ ملانے کو زور (جھوٹ) فرمایا ہے غندر نے شعبہ سے اس کے متابع حدیث روایت کی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment