Saturday, April 16, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:824,Total no:3360


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر
3360
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ رَجُلٌ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمَ وَقَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ فَکَانَ يَکْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَادَ نَصْرَانِيًّا فَکَانَ يَقُولُ مَا يَدْرِي مُحَمَّدٌ إِلَّا مَا کَتَبْتُ لَهُ فَأَمَاتَهُ اللَّهُ فَدَفَنُوهُ فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ فَقَالُوا هَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ فَأَعْمَقُوا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ فَقَالُوا هَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ وَأَعْمَقُوا لَهُ فِي الْأَرْضِ مَا اسْتَطَاعُوا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ فَعَلِمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ النَّاسِ فَأَلْقَوْهُ
ابو معمر عبدالوارث عبدالعزیز حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک نصرانی اسلام لایا اور اس نے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھی پھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کا کاتب وحی مقرر ہو گیا اس کے بعد پھر وہ نصرانی ہو گیا اور مشرکوں سے جا ملا وہ کہا کرتا کہ محمد صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا میں نے ان کو لکھ دیا ہے پھر اس کو خدا تعالیٰ نے موت دی تو لوگوں نے اس کو دفن کر دیا جب صبح کو دیکھا گیا تو زمین نے اس کی لاش کو باہر پھینک دیا تھا لوگوں نے کہا یہ محمد اور اس کے ساتھیوں کا فعل ہے چونکہ ان کے ہاں سے بھاگ آیا تھا اس لئے انہوں نے اس کی قبر کھود ڈالی چناچہ ان لوگوں نے اس کو دوبارہ حتی الامکان بہت گہرائی میں دفن کیا- دوسری صبح بھی اس کی لاش کو جب زمین نے باہر پھینک دیا تو لوگوں نے کہا یہ محمد اور ان کے اصحاب کا فعل ہے کیونکہ وہ بھاگ آیا تھا پھر انہوں نے جتنا گہرا کھود سکتے تھے کھود کر اس کی لاش کو دفن کر دیا لیکن تیسری صبح بھی جب زمین نے اس کی لاش کو باہر پھینک دیا تب لوگوں نے سمجھا کہ یہ بات آدمیوں کی طرف سے نہیں تب انہوں نے یوں ہی پڑا رہنے دیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment