Saturday, April 16, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:836,Total no:3372


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر
3372
حَدَّثَنِا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُعْتَمِرًا قَالَ فَنَزَلَ عَلَی أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ أَبِي صَفْوَانَ وَکَانَ أُمَيَّةُ إِذَا انْطَلَقَ إِلَی الشَّأْمِ فَمَرَّ بِالْمَدِينَةِ نَزَلَ عَلَی سَعْدٍ فَقَالَ أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ انْتَظِرْ حَتَّی إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ وَغَفَلَ النَّاسُ انْطَلَقْتُ فَطُفْتُ فَبَيْنَا سَعْدٌ يَطُوفُ إِذَا أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ مَنْ هَذَا الَّذِي يَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ فَقَالَ سَعْدٌ أَنَا سَعْدٌ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ تَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ آمِنًا وَقَدْ آوَيْتُمْ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ فَقَالَ نَعَمْ فَتَلَاحَيَا بَيْنَهُمَا فَقَالَ أُمَيَّةُ لسَعْدٍ لَا تَرْفَعْ صَوْتَکَ عَلَی أَبِي الْحَکَمِ فَإِنَّهُ سَيِّدُ أَهْلِ الْوَادِي ثُمَّ قَالَ سَعْدٌ وَاللَّهِ لَئِنْ مَنَعْتَنِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ لَأَقْطَعَنَّ مَتْجَرَکَ بِالشَّامِ قَالَ فَجَعَلَ أُمَيَّةُ يَقُولُ لِسَعْدٍ لَا تَرْفَعْ صَوْتَکَ وَجَعَلَ يُمْسِکُهُ فَغَضِبَ سَعْدٌ فَقَالَ دَعْنَا عَنْکَ فَإِنِّي سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلُکَ قَالَ إِيَّايَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَاللَّهِ مَا يَکْذِبُ مُحَمَّدٌ إِذَا حَدَّثَ فَرَجَعَ إِلَی امْرَأَتِهِ فَقَالَ أَمَا تَعْلَمِينَ مَا قَالَ لِي أَخِي الْيَثْرِبِيُّ قَالَتْ وَمَا قَالَ قَالَ زَعَمَ أَنَّه سَمِعَ مُحَمَّدًا يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلِي قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا يَکْذِبُ مُحَمَّدٌ قَالَ فَلَمَّا خَرَجُوا إِلَی بَدْرٍ وَجَائَ الصَّرِيخُ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ أَمَا ذَکَرْتَ مَا قَالَ لَکَ أَخُوکَ الْيَثْرِبِيُّ قَالَ فَأَرَادَ أَنْ لَا يَخْرُجَ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ إِنَّکَ مِنْ أَشْرَافِ الْوَادِي فَسِرْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ فَسَارَ مَعَهُمْ فَقَتَلَهُ اللَّهُ
احمد، عبید ﷲ ، اسرائیل، ابواسحق، عمرو بن میمون، حضرت عبد ﷲ بن مسعود رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ سعد بن معاذ عمرہ کرنے کی نیت سے چلے اور امیہ بن خلف ابی صفوان کے پاس ٹھرے اور جب امیہ شام جاتا اور اسکا مدینہ سے گزر ہوتا تو وہ سعد کے پاس ٹھرتا، امیہ نے سعد سے کہا ذرا تو قف کرو تا کہ دوپہر ہو جائے اور لوگ اپنے کام کاج میں مشغول ہو کر غافل ہو جائیں تو چلیں گے اور طواف کریں گے جس وقت سعد طواف کر رہے تھے تو اچانک ابوجہل آ گیا اور کہا کعبہ کا طواف کون کر رہا ہے؟ سعد نے کہا میں سعد ہوں- ابوجہل نے کہا تم کعبہ کا طواف اس اطمینان سے کر رہے ہو حالانکہ تم نے محمد اور انکے ساتھیوں کو (اپنے شہر میں) رہائش کے لئے جگہ دی ہے سعد نے کہا ہاں! پس ان دونوں نے باہم چیخنا شروع کر دیا- امیہ نے سعد سے کہا ابوالحکم (ابوجہل) پر اپنی آواز کو بلند نہ کرو اسلئے کہ وادی (مکہ) کے تمام لوگوں کا سردار ہے- سعد نے کہا اگر تو مجھ کو طواف کرنے سے روکے گا! تو خدا کی قسم میں تیری شام کی تجارت بند کر دوں گا- حضرت عبد ﷲ کہتے ہیں سعد سے امیہ یہی کہتا رہا اور انکو روکتا رہا- سعد کو غصہ آ گیا اور کہا تو میرے سامنے سے ہٹ جا اس لئے کہ میں نے محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ تجھے قتل کر دیں گے- امیہ نے کہا مجھ کو؟ سعد نے کہا ہاں تجھے! امیہ کہنے لگا ﷲ تعالی کی قسم محمد (صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم) جب کوئی بات کہتے ہیں تو جھوٹ نہیں کہتے ہیں امیہ اپنی بیوی کے پاس لوٹ گیا اور اس سے کہا تم کو معلوم ہے کہ میرے یثربی بھائی نے مجھ سے کیا کہا؟ اس نے پوچھا کیا کہا امیہ نے کہا وہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ وہ مجھے قتل کریں گے- اسکی بیوی نے کہا بخدا وہ جھوٹ نہیں بولتے- حضرت عبد ﷲ کہتے ہیں کہ جب کفار میدان بدر کی طرف جانے لگے اور اس کا اعلان ہو گیا تو امیہ سے اس کی بیوی نے کہا کیا تمہیں یاد نہیں رہا تمہارے یثربی بھائی نے تم سے کیا کہا تھا- ابن مسعود کہتے فرماتے ہیں امیہ نے نہ جانے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا لیکن ابوجہل نے اس سے کہا تو مکہ کے سردار اور شرفاء میں سے ہے ایک دو دن ہمارے ہمراہ چل چناچہ وہ ان کے ساتھ ہو لیا خدا تعالی نے اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment