کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں
حدیث نمبر
3405
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَأَبُو بَکْرٍ بِالسُّنْحِ قَالَ إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي بِالْعَالِيَةِ فَقَامَ عُمَرُ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا کَانَ يَقَعُ فِي نَفْسِي إِلَّا ذَاکَ وَلَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ فَلَيَقْطَعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَکَشَفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهُ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُذِيقُکَ اللَّهُ الْمَوْتَتَيْنِ أَبَدًا ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ أَيُّهَا الْحَالِفُ عَلَی رِسْلِکَ فَلَمَّا تَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ جَلَسَ عُمَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ أَبُو بَکْرٍ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَقَالَ أَلَا مَنْ کَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ کَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ وَقَالَ إِنَّکَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ وَقَالَ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَی عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاکِرِينَ قَالَ فَنَشَجَ النَّاسُ يَبْکُونَ قَالَ وَاجْتَمَعَتْ الْأَنْصَارُ إِلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَقَالُوا مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْکُمْ أَمِيرٌ فَذَهَبَ إِلَيْهِمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَذَهَبَ عُمَرُ يَتَکَلَّمُ فَأَسْکَتَهُ أَبُو بَکْرٍ وَکَانَ عُمَرُ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِذَلِکَ إِلَّا أَنِّي قَدْ هَيَّأْتُ کَلَامًا قَدْ أَعْجَبَنِي خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْلُغَهُ أَبُو بَکْرٍ ثُمَّ تَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ فَتَکَلَّمَ أَبْلَغَ النَّاسِ فَقَالَ فِي کَلَامِهِ نَحْنُ الْأُمَرَائُ وَأَنْتُمْ الْوُزَرَائُ فَقَالَ حُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ لَا وَاللَّهِ لَا نَفْعَلُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْکُمْ أَمِيرٌ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لَا وَلَکِنَّا الْأُمَرَائُ وَأَنْتُمْ الْوُزَرَائُ هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ دَارًا وَأَعْرَبُهُمْ أَحْسَابًا فَبَايِعُوا عُمَرَ أَوْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَقَالَ عُمَرُ بَلْ نُبَايِعُکَ أَنْتَ فَأَنْتَ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ عُمَرُ بِيَدِهِ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ فَقَالَ قَائِلٌ قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَقَالَ عُمَرُ قَتَلَهُ اللَّهُ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ شَخَصَ بَصَرُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَی ثَلَاثًا وَقَصَّ الْحَدِيثَ قَالَتْ فَمَا کَانَتْ مِنْ خُطْبَتِهِمَا مِنْ خُطْبَةٍ إِلَّا نَفَعَ اللَّهُ بِهَا لَقَدْ خَوَّفَ عُمَرُ النَّاسَ وَإِنَّ فِيهِمْ لَنِفَاقًا فَرَدَّهُمْ اللَّهُ بِذَلِکَ ثُمَّ لَقَدْ بَصَّرَ أَبُو بَکْرٍ النَّاسَ الْهُدَی وَعَرَّفَهُمْ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ وَخَرَجُوا بِهِ يَتْلُونَ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلَی الشَّاکِرِينَ
اسمٰعیل سلیمان ہشام عروہ بن زبیر حضرت عائشہ زوجہ محترمہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے وفات پائی تو ابوبکر مقام سخ میں تھے (اسمٰعیل کہتے ہیں کہ سخ مدینہ کے بالائی حصہ میں ایک مقام ہے) عمر یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوئے بخدا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت عمر فرماتے تھے بخدا میرے دل میں بھی یہی تھا کہ یقینا خدا تعالیٰ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھائے گا اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم چند لوگوں کے ہاتھ پیر کاٹ ڈالیں گے اتنے میں ابوبکر آ گئے اور انہوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا چہرہ انور کھولا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا بوسہ لیا اور کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم حیات و ممات میں پاکیزہ ہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ آپ کو دو موتوں کا مزہ کبھی نہیں چکھائے گا (یہ کہہ کر) پھر اس کے بعد باہر آ گئے اور عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا اے قسم کھانے والے صبر کرو جب حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ باتیں کرنے لگے تو عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بیٹھ گئے- پھر ابوبکر نے خدا کی حمد و ثناء بیان کی اور کہا خبردار ہو جاؤ جو لوگ محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کی عبادت کرتے تھے تو ان کو معلوم ہو کہ آپ کا انتقال ہو گیا- اور جو لوگ ﷲ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں وہ مطمئن رہیں کہ ان کا خدا زندہ ہے جس کو کبھی موت نہیں آئے گی اور خدا کا ارشاد ہے کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم یقینا مر جائیں گے اور یہ لوگ بھی مر جائیں گے اور محمد صلی ﷲ علیہ وسلم تو ایک رسول ہیں- آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے پیشتر بھی بہت سے رسول گزر چکے اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو کیا تم مرتد ہو جاؤ گے؟ اور جو شخص مرتد ہو جائے گا وہ خدا تعالیٰ کو ہرگز کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا اور ﷲ تعالیٰ شکر گزار لوگوں کو اچھا بدلہ دے گا- سب لوگ (یہ سن کر) بے اختیار رونے لگے- (راوی کا بیان ہے) کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار حضرت سعد بن عبادہ رضی ﷲ عنہ کے ہاں جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے ہو پھرحضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ و عمر بن خطاب اور ابوعبیدہ بن جراح حضرات سعد کے پاس تشریف لے گئے- حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے گفتگو کرنی چاہی لیکن حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کو روک دیا- حضرت عمر فرماتے ہیں کہ بخدا میں نے یہ ارادہ اس لئے کیا تھا کہ میں نے ایک ایسا کلام سوچا تھا جو میرے نزدیک بہت اچھا تھا مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ وہاں تک ابوبکر رضی ﷲ عنہ نہیں پہنچیں گے- لیکن ابوبکر نے ایسا کلام کیا جیسے بہت بڑا فصیح و بلیغ آدمی گفتگو کرتا ہے- انہوں نے اپنی تقریر میں بیان کیا کہ ہم لوگ امیر بنیں گے تم وزیر رہو- اس پر حباب بن منذر نے کہا کہ نہیں بخدا! ہم یہ نہ کریں گے بلکہ ایک امیر ہم میں سے بناؤ ایک امیر تم میں سے مقرر کیا جائے گا حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ ہم امیر و صدر بنیں گے اور تم وزیر اس لئے کہ قریش باعتبار مکان کے تمام عرب میں عمدہ برتر اور فضائل کے لحاظ سے بڑے اور بزرگ تر ہیں لہذ اتم عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ یا ابوعبیدہ بن جراح سے بیت کر لو تو حضرت عمر رضی ﷲ عنہ بولے جی نہیں ہم تو آپ سے بیعت کریں گے آپ ہمارے سردار اور ہم سب میں بہتر اور ہم سب سے زیادہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے محبوب ہیں پس حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور ان سے بیعت کر لی اور لوگوں نے آپ سے بیعت کی جس پر ایک کہنے والے نے کہا تم نے سعد بن عبادہ کو قتل کردیا حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے ہی اسے قتل کردیا ہے عبد ﷲ بن سالم زبیدی عبدالرحمن بن قاسم قاسم حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کی ایک دوسری روایت میں مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی رحلت کے وقت آنکھیں اوپر اٹھ گئیں اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا (فی الرفیق الاعلیٰ) یعنی رفیق اعلیٰ خدا تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہوں اور پوری حدیث بیان کی حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی ﷲ عنہما کی جو تقریر ہوئی اس سے ﷲ تعالیٰ نے بہت نفع پہنچایا حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے لوگوں کو ﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے سے ڈرایا- ان میں جو نفاق تھا خدا تعالیٰ نے عمر کی وجہ سے دور کیا پھر حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے لوگوں کو ہدایت دکھائی- اور جو حق ان پر تھا وہ ان کو بتلایا پھر لوگ اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے باہر نکلے (وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ) (الشاکرین) تک-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment