کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں
حدیث نمبر
3409
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْکِينٍ أَبُو الْحَسَنِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ شَرِيکِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيُّ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقُلْتُ لَأَلْزَمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَکُونَنَّ مَعَهُ يَوْمِي هَذَا قَالَ فَجَائَ الْمَسْجِدَ فَسَأَلَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا خَرَجَ وَوَجَّهَ هَا هُنَا فَخَرَجْتُ عَلَی إِثْرِهِ أَسْأَلُ عَنْهُ حَتَّی دَخَلَ بِئْرَ أَرِيسٍ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ وَبَابُهَا مِنْ جَرِيدٍ حَتَّی قَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ فَتَوَضَّأَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَی بِئْرِ أَرِيسٍ وَتَوَسَّطَ قُفَّهَا وَکَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ فَقُلْتُ لَأَکُونَنَّ بَوَّابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَدَفَعَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ فَقُلْتُ عَلَی رِسْلِکَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَکْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَأَقْبَلْتُ حَتَّی قُلْتُ لِأَبِي بَکْرٍ ادْخُلْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُکَ بِالْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْقُفِّ وَدَلَّی رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ کَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ وَقَدْ تَرَکْتُ أَخِي يَتَوَضَّأُ وَيَلْحَقُنِي فَقُلْتُ إِنْ يُرِدْ اللَّهُ بِفُلَانٍ خَيْرًا يُرِيدُ أَخَاهُ يَأْتِ بِهِ فَإِذَا إِنْسَانٌ يُحَرِّکُ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ عَلَی رِسْلِکَ ثُمَّ جِئْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَجِئْتُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَبَشَّرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُفِّ عَنْ يَسَارِهِ وَدَلَّی رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ إِنْ يُرِدْ اللَّهُ بِفُلَانٍ خَيْرًا يَأْتِ بِهِ فَجَائَ إِنْسَانٌ يُحَرِّکُ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْتُ عَلَی رِسْلِکَ فَجِئْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَی بَلْوَی تُصِيبُهُ فَجِئْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ ادْخُلْ وَبَشَّرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ عَلَی بَلْوَی تُصِيبُکَ فَدَخَلَ فَوَجَدَ الْقُفَّ قَدْ مُلِئَ فَجَلَسَ وِجَاهَهُ مِنْ الشَّقِّ الْآخَرِ قَالَ شَرِيکُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ
محمد یحییٰ سلیمان شریک سعید بن مسیب حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر میں وضو کر کے باہر نکلے اور جی میں کہا کہ میں آج رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لگا رہوں گا اور آپ ہی کے ہمراہ رہوں گا وہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے مسجد میں جا کر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا لوگوں نے بتلایا کہ آپ اس جگہ تشریف لے گئے میں بھی آپ کے نشان قدم مبارک پر چلا یہاں تک کہ بیر اریس پر جا پہنچا اور دروازہ پر بیٹھ گیا اور اس کا دروازہ کھجور کی شاخوں کا تھا یہاں تک کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قضاء حاجت سے فارغ ہوئے اور آپ نے وضو کیا پھر میں آپ کے پاس گیا تو آپ بیر اریس پر تشریف فرما تھے آپ اس کے چبوترے کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے اور اپنی پنڈلیوں کو کھول کر کنویں میں لٹکا دیا تھا میں نے سلام کیا اس کے بعد میں لوٹ آیا اور دروازہ پر بیٹھ گیا اور اپنے جی میں کہا کہ آج میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا دربان بنوں گا پھر حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا میں نے پوچھا کون؟ انہوں نے کہا ابوبکر! میں نے کہا ٹھریئے پھر میں آپ کے پاس گیا اور میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! ابوبکر اجازت مانگتے ہیں فرمایا ان کو اجازت دو اور جنت کی بشارت دے دو میں نے آگے بڑھ کر ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا اندر آ جائیے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم آپ کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں چناچہ ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اندر آئے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی داہنی طرف چبوترے پر بیٹھ گئے اور انہوں نے بھی اپنے دونوں پاؤں کنویں میں لٹکا دیئے اور اپنی پنڈلیاں کھول لیں پھر میں لوٹ گیا اور اپنی جگہ بیٹھ گیا میں نے اپنے بھائی کو گھر میں وضو کرتا ہوا چھوڑا تھا وہ میرے ساتھ آنے والا تھا میں نے اپنے جی میں کہا کاش ﷲ فلاں شخص (یعنی میرے بھائی) کے ساتھ بھلائی کرے اور اسے بھی یہاں لے آئے یکایک ایک شخص نے دروازہ ہلایا میں نے کہا کون؟ اس نے کہا عمر میں نے کہا ٹھریئے میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کر کے عرض کیا عمر بن خطاب آئے ہیں اجازت مانگتے ہیں فرمایا ان کو اجازت دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دے دو میں نے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس جا کر کہا اندر آ جایئے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے وہ اندر آئے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ چبوترہ پر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھ گئے اور انہوں نے بھی اپنے دونوں پاؤں کنویں میں لٹکا دیئے اس کے بعد میں لوٹا اور اپنی جگہ جا بیٹھا پھر میں نے کہا کاش ﷲ تعالیٰ فلاں شخص (یعنی میرے بھائی) کے ساتھ بھلائی کرتا اور اسے بھی یہاں لے آتا چناچہ ایک شخص آیا دروازہ پر دستک دینے لگا میں نے پوچھا کون؟ اس نے کہا عثمان بن عفان! میں نے کہا ٹھریئے اور میں نے رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس اندر جا کر اطلاع دی فرمایا ان کو اندر آنے کی اجازت دو نیز انہیں جنت کی بشارت دو ایک مصیبت پر جو ان کو پہنچے گی میں ان کے پاس گیا اور میں نے ان سے کہا اندر آ جائیے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے ایک مصیبت پر جو آپ کو پہنچے گی پھر وہ اندر آئے اور انہوں نے چبوترہ کو بھرا ہوا دیکھا تو اس کے سامنے دوسری طرف بیٹھ گئے (شریک راوی حدیث) فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب کہتے تھے میں نے اس کی تاویل ان کی قبروں سے لی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment