کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
حضرت ابوالحسن علی بن ابی طالب قرشی ہاشمی کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3436
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَی يَدَيْهِ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوکُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا يَشْتَکِي عَيْنَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَائَ بَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ حَتَّی کَأَنْ لَمْ يَکُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّی يَکُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ انْفُذْ عَلَی رِسْلِکَ حَتَّی تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ يَکُونَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ
قتیبہ عبدالعزیز ابوحازم حضرت سہل بن سعد رضی ﷲ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے (خیبر کے دن) فرمایا کل میں یہ جھنڈا ایک شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں سے خدا وند تعالیٰ (قلعہ خیبر کو) فتح کرائے گا رات کو تمام لوگ سوچتے رہے دیکھئے جھنڈا کس کو ملتا ہے جب صبح ہوئی تو تمام لوگ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں یہ امید لے کر حاضر ہوئے کہ جھنڈا انہیں کو ملے گا- آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں آپ نے فرمایا کوئی جا کر ان کو بلا لائے چناچہ انہیں بلا کر لایا گیا جب وہ آئے تو آپ نے ان کی دونوں آنکھوں پر لعاب دہن لگا دیا اور ان کے لئے دعا کی- وہ اچھی ہو گئیں گویا دکھتی ہی نہ تھیں پھر آپ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا حضرت علی نے عرض کیا یا رسول ﷲ میں ان لوگوں (یعنی دشمنوں) سے اس وقت تک لڑوں گا جب تک وہ ہماری مانند مسلمان نہ ہو جائیں آپ نے فرمایا ٹھرو، جب تم میدان جنگ میں پہنچ جاؤ تو پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا (یعنی اسلام کی طرف بلانا) پھر خدا کا حق جو ان پر واجب ہے اس سے ان کو مطلع کرنا اس لئے کہ بخدا! اگر تمہاری تحریک و تبلیغ کے ذریعہ سے ﷲ تعالیٰ نے ایک شخص کو بھی ہدایت دے دی تو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بدرجہا بہتر ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment