کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
حضرت ابوالحسن علی بن ابی طالب قرشی ہاشمی کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3437
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ کَانَ عَلِيٌّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ وَکَانَ بِهِ رَمَدٌ فَقَالَ أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَانَ مَسَائُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا اللَّهُ فِي صَبَاحِهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ أَوْ لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَوْ قَالَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ فَقَالُوا هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ
قتیبہ حاتم یزید حضرت سلمہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ خیبر میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، جس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی آنکھیں دکھتی تھیں انہوں نے اپنے جی میں کہا کہ مجھے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانا کچھ زیب نہیں دیتا، چناچہ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تیزی سے چل کر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے جب شام ہوئی جس کے دوسرے دن صبح کو خدا تعالیٰ نے فتح دی ہے تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا میں کل جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا، یا فرمایا جھنڈا وہ شخص لے گا جس کو خدا اور رسول محبوب رکھتے ہیں، یا فرمایا وہ جو ﷲ اور اس کے رسول کو محبوب رکھتا ہے خدا تعالیٰ اس کے ہاتھوں پر فتح نصیب کرے گا اچانک ہماری ملاقات علی سے ہو گئی، ہم کو ان کے آنے کی امید نہ تھی لوگوں نے کہا یہ علی ہیں پس رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے جھنڈا ان کو مرحمت فرمایا اور خدا نے ان کے ہاتھ پر فتح دی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment