کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3448
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ قَزَعَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَکْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهَا فَسَارَّهَا بِشَيْئٍ فَبَکَتْ ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا فَضَحِکَتْ قَالَتْ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَکَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ فَضَحِکْتُ
یحییٰ بن قزعہ ابراہیم بن سعد عروہ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کو اپنے مرض میں جس میں آپ نے رحلت فرمائی بلوایا (جب وہ آئیں) تو ان سے آہستہ آہستہ کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں پھر آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، میں نے فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے اس کا سبب دریافت کیا انہوں نے جواب دیا کہ مجھے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے آہستہ سے اس بات سے خبردار کیا تھا کہ آپ اسی مرض میں وفات پائیں گے، تو میں رونے لگی جب دوبارہ آپ نے آہستہ سے کہا کہ میں ان کے اہل میں سب سے پہلے ان سے ملوں گی تو میں ہنسنے لگی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment