کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
حضرت زبیر بن عوام کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر
3449
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ قَالَ أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رُعَافٌ شَدِيدٌ سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّی حَبَسَهُ عَنْ الْحَجِّ وَأَوْصَی فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ اسْتَخْلِفْ قَالَ وَقَالُوهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَمَنْ فَسَکَتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ فَقَالَ اسْتَخْلِفْ فَقَالَ عُثْمَانُ وَقَالُوا فَقَالَ نَعَمْ قَالَ وَمَنْ هُوَ فَسَکَتَ قَالَ فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَخَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ وَإِنْ کَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
خالد علی ہشام عروہ حضرت زبیر سے بیان کرتے ہیں کہ مجھ کو مروان بن حکم نے خبر دی کہ مرض نکسیر کے سال حضرت عثمان کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ ان کو حج سے رکنا پڑا اور وصیت بھی کر دی تھی کہ ایک قریشی نے آپ کے پاس جا کر عرض کیا کہ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیجئے حضرت عثمان نے پوچھا کیا لوگ خلیفہ مقرر کرنے کو کہتے ہیں؟ اس نے کہاں ہاں! آپ نے فرمایا کس کو؟ وہ خاموش رہا پھر ایک اور شخص آپ کے پاس آیا میرا خیال ہے کہ وہ حرث تھے انہوں نے کہا کسی کو خلیفہ بنائیے- آپ نے اس سے بھی پوچھا کیا خلیفہ مقرر کرنے کو لوگ کہتے ہیں؟ اس نے کہاں ہاں! آپ نے اس سے بھی فرمایا کس کو؟ شاید وہ بھی تھوڑی دیر خاموش رہا پھر کہنے لگا شاید لوگوں کی رائے ہے زبیر کو خلیفہ بنایا جائے تو حضرت عثمان نے فرمایا ہاں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میرے علم میں زبیر سب سے بہتر ہیں یقینا وہ سرور عالم کو سب سے زیادہ محبوب تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment