کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
حضرت زبیر بن عوام کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر
3453
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلزُّبَيْرِ يَوْمَ الْيَرْمُوکِ أَلَا تَشُدُّ فَنَشُدَّ مَعَکَ فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ فَضَرَبُوهُ ضَرْبَتَيْنِ عَلَی عَاتِقِهِ بَيْنَهُمَا ضَرْبَةٌ ضُرِبَهَا يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ عُرْوَةُ فَکُنْتُ أُدْخِلُ أَصَابِعِي فِي تِلْکَ الضَّرَبَاتِ أَلْعَبُ وَأَنَا صَغِيرٌ
علی ابن مبارک ہشام حضرت عروہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے اصحاب نے جنگ یرموک میں حضرت زبیر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ حملہ کیوں نہیں کرتے ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کرنا چاہتے ہیں حضرت زبیر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے حملہ کیا تو کافروں نے دو زخم ان کے شانے پر لگائے، ان دونوں زخموں کے درمیان وہ زخم بھی تھا جو بدر کے دن ان کے آیا تھا حضرت عروہ کا بیان ہے جب میں چھوٹا تھا تو کھیل میں اپنی انگلیاں ان کے زخموں کے نشان کے اندر ڈالتا تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment