کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
حضرت عمار و حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3467
حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَدِمْتُ الشَّأْمَ فَصَلَّيْتُ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ قُلْتُ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَأَتَيْتُ قَوْمًا فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ فَإِذَا شَيْخٌ قَدْ جَائَ حَتَّی جَلَسَ إِلَی جَنْبِي قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا أَبُو الدَّرْدَائِ فَقُلْتُ إِنِّي دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَيَسَّرَکَ لِي قَالَ مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْکُوفَةِ قَالَ أَوَلَيْسَ عِنْدَکُمْ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادِ وَالْمِطْهَرَةِ وَفِيکُمْ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنْ الشَّيْطَانِ يَعْنِي عَلَی لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَلَيْسَ فِيکُمْ صَاحِبُ سِرِّ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ غَيْرُهُ ثُمَّ قَالَ کَيْفَ يَقْرَأُ عَبْدُ اللَّهِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِلَی فِيَّ
مالک اسرائیل مغیرہ ابراہیم حضرت علقمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ملک شام میں گیا تو میں نے دو رکعت نماز پڑھی پھر میں نے یہ دعا کی اے ﷲ مجھ کو کوئی نیک بخت ہمنشین عطا فرما پھر میں ایک جماعت میں پہنچا اور اس کے ساتھ بیٹھ گیا اچانک ایک بوڑھا آیا اور میرے پہلو میں بیٹھ گیا میں نے لوگوں سے دریافت کیا یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا ابودرداء ہیں میں نے ان سے کہا میں نے خدا سے دعا کی تھی کہ وہ مجھ کو ایک صالح ہم نشین عطا فرمائے چناچہ خدا نے آپ کو بھیج دیا ابودرداء نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا کوفہ کا رہنے والا ہوں انہوں نے کہا کیا تم میں ابن ام عبد (عبد ﷲ بن مسعود) نہیں ہیں جو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی جوتیاں و تکیہ اور چھاگل اپنے پاس رکھتے تھے کیا تم میں وہ شخص نہیں جس کو ﷲ نے نبی کی زبان پر شیطان سے پناہ دی ہے اور کیا تم میں وہ شخص نہیں جو رسول ﷲ کے اسرار کو جاننے والا ہے جن کا اس کے سوا کوئی دوسرا واقف نہیں (یعنی حذیفہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ) (میں نے کہا ہاں! ہیں) پھر انہوں نے کہا بتاؤ عبد ﷲ بن مسعود (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی) کس طرح پڑھتے ہیں؟ میں نے ان کو پڑھ کر سنائی- انہوں نے کہا خدا کی قسم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مجھ کو اسی طرح یہ سورہ پڑھائی ہے اسی طرح اپنے منہ سے میرے منہ میں ڈالا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment