Sunday, April 17, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:932,Total no:3468


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
حضرت عمار و حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3468
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَی الشَّأْمِ فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَالَ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَجَلَسَ إِلَی أَبِي الدَّرْدَائِ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْکُوفَةِ قَالَ أَلَيْسَ فِيکُمْ أَوْ مِنْکُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ يَعْنِي حُذَيْفَةَ قَالَ قُلْتُ بَلَی قَالَ أَلَيْسَ فِيکُمْ أَوْ مِنْکُمْ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَی لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي مِنْ الشَّيْطَانِ يَعْنِي عَمَّارًا قُلْتُ بَلَی قَالَ أَلَيْسَ فِيکُمْ أَوْ مِنْکُمْ صَاحِبُ السِّوَاکِ وَالْوِسَادِ أَوْ السِّرَارِ قَالَ بَلَی قَالَ کَيْفَ کَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّی قُلْتُ وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی قَالَ مَا زَالَ بِي هَؤُلَائِ حَتَّی کَادُوا يَسْتَنْزِلُونِي عَنْ شَيْئٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سلیمان شعبہ مغیرہ حضرت ابراہیم(نخعی) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ جب ملک شام آئے اور مسجد میں داخل ہوئے تو یہ دعا مانگی اے ﷲ تعالیٰ مجھ کو کوئی صالح ہمنشین عطا فرما اور حضرت ابودرداء کے پاس جا بیٹھے ابودرداء نے دریافت کیا ان سے کہ تم کون ہو؟ علقمہ نے کہا میں کوفہ کا رہنے والا ہوں انہوں نے کہا کیا تمہارے ہاں وہ شخص نہیں ہے جس کو خدا تعالیٰ نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی زبان کے ذریعہ شیطان سے پناہ دی ہے؟ یعنی عمار علقمہ نے کہا ہاں (وہ ہیں) انہوں نے کہا کیا تم میں وہ شخص نہیں ہے جو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے اسرار کو جاننے والا ہے جن سے اس کے علاوہ کوئی دوسرا واقف نہیں ہے یعنی حذیفہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ علقمہ نے کہا ہاں وہ بھی موجود ہیں پھر انہوں نے کہا کیا تم میں صاحب مسواک (یعنی عبد ﷲ بن مسعود رضی ﷲ تعالیٰ عنہ) نہیں ہے؟ علقمہ نے کہا ہاں (ہیں) پھر انہوں نے کہا کہ حضرت عبد ﷲ (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی) کیسے پڑھتے ہیں؟ چناچہ میں نے یہ سورت پڑھ کر سنائی ( وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی) ابودرداء نے فرمایا یہ لوگ میرے پیچھے پڑ گئے ہیں اور میں نے جس طرح رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے سنا ہے اس سے مجھے ہٹا دینا چاہتے ہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment