کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
آرزو کرنے کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ اگر میں پہلے ہی اپنے کام کے متعلق جان لیتا جو میں نے بعد میں جانا
حدیث نمبر
6735
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَبَّيْنَا بِالْحَجِّ وَقَدِمْنَا مَکَّةَ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَنَحِلَّ إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ قَالَ وَلَمْ يَکُنْ مَعَ أَحَدٍ مِنَّا هَدْيٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَجَائَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ مَعَهُ الْهَدْيُ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا نَنْطَلِقُ إِلَی مِنًی وَذَکَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَحَلَلْتُ قَالَ وَلَقِيَهُ سُرَاقَةُ وَهُوَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَنَا هَذِهِ خَاصَّةً قَالَ لَا بَلْ لِأَبَدٍ قَالَ وَکَانَتْ عَائِشَةُ قَدِمَتْ مَعَهُ مَکَّةَ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْسُکَ الْمَنَاسِکَ کُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَا تَطُوفُ وَلَا تُصَلِّي حَتَّی تَطْهُرَ فَلَمَّا نَزَلُوا الْبَطْحَائَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِحَجَّةٍ قَالَ ثُمَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ أَنْ يَنْطَلِقَ مَعَهَا إِلَی التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ عُمْرَةً فِي ذِي الْحَجَّةِ بَعْدَ أَيَّامِ الْحَجِّ
حسن بن عمر، یزید، حبیب ﷲ ، جابر بن عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے حج کا احرام باندھا، اور ہم لوگ ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو مکہ پہنچے تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ اور صفا مروہ کا طواف کریں اور ہم اس کو عمرہ بنا ڈالیں، اور سوائے اس شخص کے جس کے پاس ہدی ہو، ہم سب احرام کھول دیں- جابر بن عبد ﷲ کا بیان ہے کہ سوائے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور طلحہ کے پاس ہدی کا جانور نہیں تھا، اور حضرت علی یمن سے آئے تھے- ان کے پاس ہدی تھی- انہوں نے کہا کہ میں نے اس چیز کی نیت کی جس کی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کی ہے لوگوں نے عرض کیا کہ ہم لوگ منی میں کی طرف چلے اس حال میں کہ ہم لوگوں سے منی ٹپک رہی تھی، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں پہلے سے وہ جان لیتا جو بعد میں معلوم ہوا، تو میں ہدی نہ لاتا اور اگر میرے پاس ہدی نہ ہوتی تو میں احرام کھول دیتا، جابر کا بیان ہے کہ سراقہ جس وقت جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار رہے تھے تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے ملے، اور پوچھا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کیا یہ حکم صر ف ہم لوگوں کے لئے ہے؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے، حضرت عائشہ مکہ پہنچیں تو حیض کی حالت میں تھیں، تو انہیں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمام ارکان ادا کریں، مگر طواف نہ کریں اور نہ نماز پڑھیں جب تک کہ پاک نہ ہو جائیں، جب لوگ مقام بطحاء میں اترے تو عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ حج اور عمرہ کر کے واپس ہوں گے، اور میں صرف حج کروں گی آپ نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا کہ وہ حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے ساتھ مقام تنعیم تک جائیں چناچہ حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے ایام حج گزرنے کے بعد ذی الحجہ میں عمرہ کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment