کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
کیچڑ میں ناک کے بل سجدہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر
774
حَدَّثَنَا مُوسَی قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَقُلْتُ أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَی النَّخْلِ نَتَحَدَّثُ فَخَرَجَ فَقَالَ قُلْتُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ اعْتَکَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ الْأُوَلِ مِنْ رَمَضَانَ وَاعْتَکَفْنَا مَعَهُ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَکَ فَاعْتَکَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فَاعْتَکَفْنَا مَعَهُ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَکَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَ مَنْ کَانَ اعْتَکَفَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نُسِّيتُهَا وَإِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ وَإِنِّي رَأَيْتُ کَأَنِّي أَسْجُدُ فِي طِينٍ وَمَائٍ وَکَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ جَرِيدَ النَّخْلِ وَمَا نَرَی فِي السَّمَائِ شَيْئًا فَجَائَتْ قَزْعَةٌ فَأُمْطِرْنَا فَصَلَّی بِنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ وَالْمَائِ عَلَی جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْنَبَتِهِ تَصْدِيقَ رُؤْيَاهُ
موسیٰ، ہمام، یحیی، ابوسلمہ روایت کرتے ہیں کہ میں (ایک روز) ابوسعید حدری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ فلاں درخت کی طرف کیوں نہیں چلتے، تاکہ ہم ذکر و تذکرہ کریں، پس وہ نکلے، ابوسلمہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ مجھ سے بیان کیجئے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے شب قدر کے بارے میں کہا سنا ہے؟ وہ بولے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار رمضان کے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا، اور ہم لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ اعتکاف کیا، اس عرصہ میں جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہ جس کی آپ کو تلاش ہے (یعنی شب قدر) اس عشرہ کے آگے ہے، لہٰذا آپ نے درمیانی عشرہ میں اعتکاف فرمایا، اور ہم نے بھی آپ کے ہمراہ اعتکاف کیا، پھر جبریل آپ کے پاس آئے اور کہا کہ جس کی تمہیں تلاش ہے وہ اس عشرہ کے آگے ہے پس بیسویں رمضان کی صبح کو آپ خطبہ پڑھنے کھڑے ہوئے اور فرمایا نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ دوبارہ پھر کرے کیونکہ میں نے شب قدر کو دیکھ لیا لیکن میں اسے بھول گیا، اور اب صرف اتنا یاد ہے کہ وہ آخر عشرہ میں طاق رات ہے، اور میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ گویا میں مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں، اور اسوقت تک مسجد کی چھت چھوہارے کی شاخ سے بنی تھی اور اسوقت ہم آسمان میں کوئی چیز ابر وغیرہ نہ دیکھتے تھے اتنے میں ایک ٹکڑا بادل کا آیا اور ہم پر پانی برسا تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی یہاں تک کہ میں نے کیچڑ کا نشان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی پیشانی پر اور آپ کی ناک پر دیکھا یہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے خواب کی تصدیق تھی،
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment