کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حج کا بیان
باب
ایام منی میں خطبہ دینے کا بیان
حدیث نمبر
1630
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ وَرَجُلٌ أَفْضَلُ فِي نَفْسِي مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَی قَالَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ ذُو الْحَجَّةِ قُلْنَا بَلَی قَالَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَتْ بِالْبَلْدَةِ الْحَرَامِ قُلْنَا بَلَی قَالَ فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَيْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا فِي بَلَدِکُمْ هَذَا إِلَی يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَی مِنْ سَامِعٍ فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي کُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
عبدﷲ بن محمد، ابوعامر، قرہ، محمد بن سیرین، عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے اور ایک دوسرے شخص نے جو میرے خیال میں عبدالرحمن سے افضل تھے- یعنی حمید بن عبدالرحمن نے بھی ابوبکرہ سے روایت کیا ہے کہ قربانی کے دن نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے خطبہ پڑھا- فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ﷲ اور ﷲ کے رسول زیادہ باخبر ہیں، آپ تھوڑی دیر خاموش رہے- یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا آپ اس دن کا کوئی دوسرا نام بیان کریں گے، آپ نے فرمایا کہ یہ یوم نحر ہے؟ ہم نے جواب دیا کیوں نہیں، آپ نے فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ﷲ اور ﷲ کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ تھوڑی دیر خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوا کہ شاید آپ اس دن کا کوئی دوسرا نام بیان کریں گے- آپ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں- آپ نے فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ﷲ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر آپ خاموش رہے یہاں تک کہ ہم کوخیال ہوا شاید کوئی دوسرا نام اس شہر کا رکھیں گے، آپ نے فرمایا کیا یہ حرام کا شہر نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں، آپ نے فرمایا کہ تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر حرام ہیں، جس طرح آج کا دن تمہارے اس مہینہ اور اس شہر میں ہے، جب تک تم اپنے رب سے ملو، لوگوں! کیا میں نے پہنچا دیا لوگوں نے کہا کہ ہاں، آپ نے فرمایا اے ﷲ گواہ رہنا، حاضر غائب کو پہنچا دیں، اس لئے کہ بسا اوقات براہ راست سننے والے سے وہ شخص زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے جسے پہنچایا گیا ہو، میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment