Saturday, January 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1658


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟
حدیث نمبر
1658
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا جَالِسٌ إِلَی حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَإِذَا نَاسٌ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ صَلَاةَ الضُّحَی قَالَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ فَقَالَ بِدْعَةٌ ثُمَّ قَالَ لَهُ کَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ فَکَرِهْنَا أَنْ نَرُدَّ عَلَيْهِ قَالَ وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحُجْرَةِ فَقَالَ عُرْوَةُ يَا أُمَّاهُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ مَا يَقُولُ قَالَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ قَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ شَاهِدُهُ وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ
قتیبہ، جریر، منصور، مجاہد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوتے دیکھا کہ حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کے حجرے کے پاس بیٹھے ہیں اور لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے ہیں، تو ہم نے ان سے لوگوں کی نماز کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ یہ بدعت ہے، پھر ان سے پوچھا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟ انہوں نے بتلایا چار، پہلا عمرہ رجب میں نے کیا تھا ہم لوگوں نے ان کی بات کا رد کرنا نامناسب سمجھا، تو ہم نے ام المومنین عائشہ کے مسواک کرنے کی آواز سنی عروہ نے پکارا اور کہا یا ام المومنین کیا آپ نہیں سن رہی ہیں جو ابوعبدالرحمن کہہ رہے ہیں انہوں نے کہا کیا کہہ رہے ہو؟ عروہ نے بیان کیا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے چارعمرے کیے پہلا عمرہ رجب میں کیا حضرت عائشہ نے فرمایا ﷲ تعالی ابوعبدالرحمن پر رحم کرے آپ نے کوئی عمرہ بھی ایسا نہیں کیا جس میں ابوعبدالرحمن شریک نہ ہوئے ہوں اور آپ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment