کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
جب عمرہ کرنے والے کو روکا جائے۔
حدیث نمبر
1688
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا کَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَيَالِيَ نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَا لَا يَضُرُّکَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَکَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَقَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ کُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ وَأُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْعُمْرَةَ إِنْ شَائَ اللَّهُ أَنْطَلِقُ فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي فَلَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّی حَلَّ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَهْدَی وَکَانَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ حَتَّی يَطُوفَ طَوَافًا وَاحِدًا يَوْمَ يَدْخُلُ مَکَّةَ
عبدﷲ بن محمد بن اسماء، جویریہ، نافع، عبیدﷲ بن عبدﷲ اور سالم بن عبدﷲ سے روایت کرتے ہیں کہ ان دونوں نے جس زمانہ میں ابن زبیر پر لشکر کشی ہوئی تھی، عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ سے گفتگو کی اور کہا کہ اس سال حج نہ کرنے میں آپ کے لئے نقصان نہیں اور ہمارے لئے خطرہ ہے کہ آپ کے درمیان اور خانہ کعبہ کے درمیان رکاوٹ ہوگی انہوں نے کہا کہ ہم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو کفار قریش خانہ کعبہ میں داخل ہونے میں مزاحم ہوئے، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنی ہدی کو ذبح کیا اور اپنا سر منڈایا، عبدﷲ نے کہا کہ میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ کو واجب کیا ہے اور ﷲ تعالی نے چاہا تو میں جاتا ہوں اگر راستہ میں میرے اور خانہ کعبہ کے درمیان رکاوٹ نہ ہوئی تو میں خانہ کعبہ کا طواف کروں گا جس طرح نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے کیا تھا اور میں آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، چناچہ ذی الحلیفہ سے عمرہ کا احرام باندھا پھر تھوڑی دیر چلے پھر کہا کہ دونوں کا ایک حال ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کیساتھ حج واجب کر لیا پھر ان دونوں کے احرام سے باہر نہ ہوئے یہاں تک قربانی کا دن آگیا اور ہدی بھیج چکے اور کہتے تھے کہ احرام سے باہر نہ ہو جب تک کہ مکہ میں داخل ہو کر ایک طواف (زیارت کا) نہ کرے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment