کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
محرم کے غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
1720
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْعَبَّاسِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَائِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ وَقَالَ الْمِسْوَرُ لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ إِلَی أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يُسْتَرُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْکَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ أَسْأَلُکَ کَيْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَی الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّی بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ اصْبُبْ فَصَبَّ عَلَی رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّکَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ وَقَالَ هَکَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
عبدﷲ بن یوسف، مالک، زید بنا اسلم، ابراہیم بن عبدﷲ بن حنین اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عبدﷲ بن عباس اور مسور بن مخرمہ میں مقام ابواء میں اختلاف ہوا عبدﷲ بن عباس نے کہا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے اور مسور نے کہا کہ نہ دھوئے- مجھے عبدﷲ بن عباس نے ابوایوب انصاری کے پاس بھیجا میں نے انہیں کوئیں کی دو لکڑیاں کے پاس غسل کرتے ہوئے دیکھا اور ایک کپڑے سے آڑ کئے ہوئے تھے میں نے ان کو سلام کیا- انہوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا میں عبدﷲ بن حنین ہوں- عبدﷲ بن عباس نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ دریافت کروں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم حالت احرام میں کس طرح اپنا سر دھوتے تھے، ابوایوب نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اس کو نیچے کیا یہاں تک کہ اس کا سر کھل گیا پھر ایک شخص سے جو پانی ڈال رہا تھا کہا کہ پانی ڈال اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا پھر اپنا سر دونوں ہاتھوں سے ملا اور دونوں ہاتھ آگے لے گئے پھر پیچھے لے گئے اور کہا کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو اسی طرح دیکھا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment