Saturday, January 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1748


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
مدینہ کے حرم کا بیان۔
حدیث نمبر
1748
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا عِنْدَنَا شَيْئٌ إِلَّا کِتَابُ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَی کَذَا مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَقَالَ ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ تَوَلَّی قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ
محمد بن بشار، عبدالرحمن، سفیان، اعمش، ابراہیم تیمی اپنے والد سے وہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا میرے پاس تو صرف ﷲ کی کتاب اور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کا یہ صحیفہ ہے (جس میں لکھاہے) مدینہ عائر سے لے کر فلاں فلاں مقامات تک حرم ہے جو شخص اس جگہ میں کوئی بات نکالے یا کسی بدعتی کو پناہ دے تو اس پر ﷲ تعالی کی لعنت اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کی فرض عبادت مقبول ہے اور نہ نفل اور آپ نے فرمایا مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے جو شخص کسی مسلمان کاعہد توڑے، اس پر ﷲ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ تو اس کی فرض عبادت مقبول ہوگی اور نہ نفل اور جو شخص اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے سوالات کرے تو اس پر ﷲ تعالی اور اس کے تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اس کی نہ تو کوئی فرض عبادت مقبول ہوگی اور نہ نفل عبادت-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment