کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
روزے کا بیان
باب
اگر کوئی شخص رمضان میں جماع کرلے اور اس کے پاس کوئی چیزنہ ہو پھر اس کے پاس صدقہ آئے تو وہی کفارہ دے دے۔
حدیث نمبر
1811
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَکْتُ قَالَ مَا لَکَ قَالَ وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا قَالَ لَا قَالَ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا فَقَالَ فَهَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْکِينًا قَالَ لَا قَالَ فَمَکَثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَی ذَلِکَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهَا تَمْرٌ وَالْعَرَقُ الْمِکْتَلُ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ فَقَالَ أَنَا قَالَ خُذْهَا فَتَصَدَّقْ بِهِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَعَلَی أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَضَحِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ أَطْعِمْهُ أَهْلَکَ
ابوالیمان، شعیب، زہری، حمید بن الرحمن، ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے- کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول ﷲ! میں تو ہلاک ہو گیا- آپ نے دریافت کیا کیا بات ہے؟ اس نے بتایا کہ میں نے اپنی بیوی سے روزہ کی حالت میں جماع کر لیا- رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم آزاد کر سکو؟ اس نے کہا کہ نہیں- آپ نے فرمایا کیا تم دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتے ہو اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا کہ کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں- نبی صلی ﷲ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے ہم اس حال میں تھے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں اور عرق سے مراد مکتل ہے- آپ نے دریافت کیا کہ سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا میں ہوں، آپ نے فرمایا اسے لے جا اور خیرات کردے- اس شخص نے پوچھا کیا اس کو دوں، جو مجھ سے زیادہ محتاج ہے، یا رسول ﷲ! مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی ایسا گھر نہیں، جو میرے گھر والوں سے زیادہ محتاج ہو، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے اگلے دانت کھل اٹھے، پھر آپ نے فرمایا اپنے گھر والوں کو کھلا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment