حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَی يَهُودَ فَخَرَجْنَا حَتَّی جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ فَقَالَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَکُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ يَجِدْ مِنْکُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ
عبد ﷲ بن یوسف لیث سعید مقبری ان کے والد حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد ہی میں تھے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے باہر تشریف لا کر فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو اور جب ہم لوگ بیت مدارس میں پہنچے تو آپ نے یہودیوں سے فرمایا کہ اسلام لاؤ تاکہ تم محفوظ ہو جاؤ اور اچھی طرح جان لو کہ یہ زمین ﷲ اور اس کے رسول کی ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ تم کو اس زمین میں سے نکال کر باہر کردوں سنو!کہ تم میں سے جس کے پاس مال ہو وہ اس کو فروخت کردے ورنہ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ زمین صرف ﷲ اور اس کے رسول کی ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = یہودیوں کو جزیرہ عرب سے باہر نکال دینے کا بیان
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 403
ٹوٹل حدیث نمبر 2939
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
عبد ﷲ بن یوسف لیث سعید مقبری ان کے والد حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد ہی میں تھے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے باہر تشریف لا کر فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو اور جب ہم لوگ بیت مدارس میں پہنچے تو آپ نے یہودیوں سے فرمایا کہ اسلام لاؤ تاکہ تم محفوظ ہو جاؤ اور اچھی طرح جان لو کہ یہ زمین ﷲ اور اس کے رسول کی ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ تم کو اس زمین میں سے نکال کر باہر کردوں سنو!کہ تم میں سے جس کے پاس مال ہو وہ اس کو فروخت کردے ورنہ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ زمین صرف ﷲ اور اس کے رسول کی ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = یہودیوں کو جزیرہ عرب سے باہر نکال دینے کا بیان
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 403
ٹوٹل حدیث نمبر 2939
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment