Friday, March 25, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:396, Total Hadith no: 2932

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَکَانَ شَهِدَ بَدْرًا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَی الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ الْعَلَائَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتْ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَوَافَتْ صَلَاةَ الصُّبْحِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّی بِهِمْ الْفَجْرَ انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ وَقَالَ أَظُنُّکُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدْ جَائَ بِشَيْئٍ قَالُوا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّکُمْ فَوَاللَّهِ لَا الْفَقْرَ أَخْشَی عَلَيْکُمْ وَلَکِنْ أَخَشَی عَلَيْکُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْکُمْ الدُّنْيَا کَمَا بُسِطَتْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَتَنَافَسُوهَا کَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُهْلِکَکُمْ کَمَا أَهْلَکَتْهُمْ

ابو الیمان شعیب زہری عروہ حضرت مسور رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان سے عمرو بن عوف انصاری نے جو بنو عامر بن لوی کے حلیف اور بدری تھے بیان کیا کہ رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح کو جزیہ لانے کے لیے بحرین روانہ کیا اور آپ نے بحرین کے باشندوں سے صلحکرکے ان پر علاء بن حضرمی کو حاکم اعلیٰ مقرر فرما دیا تھا انصار نے جب سن لیا کہ ابوعبیدہ بحرین سے مال لے کر لوٹ آئے ہیں تو انہوں نے ایک دن نماز فجر رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی پھر جب آپ نماز فجر پڑھ کے واپس ہونے لگے تو انصاری آپ کے آگے جمع ہو گئے یہ دیکھ کر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم نے سنا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ مال لائے ہیں ان لوگوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم! اس کے بعد آپ نے فرمایا مسرور ہو جاؤ اور اس امر کی امید رکھو جو تم کو فرحان و شاداں کردے گی ﷲ کی قسم! مجھے تمہاری ناداری کا اندیشہ نہیں البتہ اس امر کا ڈر لگا ہوا ہے کہ تمہارے لئے دنیا ایسی ہی وسیع کردی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ و فراخ کردی گئی تھی اور اس وقت تم جھگڑے کروگے جیسے کہ پچھلی قوموں نے جھگڑے مچائے تھے اور یہ فراخی و کشادگی تم کو ہلاکت میں ڈال دے گی جس طرح گزشتہ لوگوں کو اس نے ہلاک کردیا ہے



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = ذمی کا فروں سے جزیہ لینے اور قول و قرار کرنے کا بیان۔
جلد نمبر  2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر  396
ٹوٹل حدیث نمبر  2932


contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment