Friday, March 25, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:407, Total Hadith no: 2943

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَی أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّی ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُهُ فُلَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَلِکَ ضُحًی

عبد ﷲ بن یوسف مالک ابوالنضر (جو کہ عمر بن عبید ﷲ کے آزاد کردہ غلام تھے) ابومرہ (جو کہ ام ہانی دختر ابوطالب کے آزاد کردہ غلام تھے) سے روایت کرتے ہیں کہ ام ہانی دختر ابوطابل نے کہا کہ فتح مکہ کے سال میں رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ غسل فرما رہے تھے اور حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا پردہ پکڑے ہوئے تھیں تو میں نے آپ کو السلام علیکم کہا تو آپ نے فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا میں ہوں ام ہانی بنت ابی طالب تو آپ نے فرمایا خوش باش! آؤ ام ہانی آؤ پھر آپ نے غسل سے فراغتکرکے ایک ہی کپڑے میں لپٹے لپٹے کھڑے ہوکر آٹھ رکعت نماز پڑھی تو میں (ام ہانی) نے کہا کہ یا رسول ﷲ میں نے فلاں ابن ہبیرہ کر پنا دی ہے اور میرے بھائی حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ان کو مارنا چاہتے ہیں تو رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ام ہانی! جس کو تم نے پناہ دی ہے اس کو ہم نے بھی پناہ دی ہے اور یہ چاشت کا وقت تھا



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = عورتوں کا کسی کو پناہ اور امان دینے کا بیان
جلد نمبر  2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر  407
ٹوٹل حدیث نمبر  2943


contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment