کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
اگر امام نماز کو طول دے اور کوئی شخص اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے نماز توڑ کر چلا جائے اور نماز پڑھ لے
حدیث نمبر
665
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ کَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ فَصَلَّی الْعِشَائَ فَقَرَأَ بِالْبَقَرَةِ فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ فَکَأَنَّ مُعَاذًا تَنَاوَلَ مِنْهُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فَتَّانٌ فَتَّانٌ فَتَّانٌ ثَلَاثَ مِرَارٍ أَوْ قَالَ فَاتِنًا فَاتِنًا فَاتِنًا وَأَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ أَوْسَطِ الْمُفَصَّلِ قَالَ عَمْرٌو لَا أَحْفَظُهُمَا
مسلم، شعبہ، عمرو، جابر بن عبدﷲ ، روایت کرتے ہیں کہ معاذبن جبل نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے اس کے بعد گھر واپس جاتے تو اپنی قوم کی امامت کرتے ایک مرتبہ انہوں نے عشاء کی نماز پڑھائی تو سورۃ بقرہ شروع کردی ایک شخص چل دیا اس سبب سے معاذ کو اس سے رنج رہنے لگا یہ خبر نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کر پہنچی تو آپ نے معاذ سے تین مرتبہ فرمایا کہ فتان فتان فتان یا فرمایا کہ فاتن فاتن فاتن اور آپ نے ان کو اوسط مفصل کی دو سورتوں کے پڑھنے کا حکم دیا عمرو راوی کہتے ہیں کہ میں ان کو بھول گیا ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment