Thursday, November 18, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:957


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز استسقاء کا بیان
باب
جامع مسجد میں بارش کی دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر
957
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيکُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَذْکُرُ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ بَابٍ کَانَ وِجَاهَ الْمِنْبَرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَکَتْ الْمَوَاشِي وَانْقَطَعَتْ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يُغِيثُنَا قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اسْقِنَا اللَّهُمَّ اسْقِنَا اللَّهُمَّ اسْقِنَا قَالَ أَنَسُ وَلَا وَاللَّهِ مَا نَرَی فِي السَّمَائِ مِنْ سَحَابٍ وَلَا قَزَعَةً وَلَا شَيْئًا وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ قَالَ فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ فَلَمَّا تَوَسَّطَتْ السَّمَائَ انْتَشَرَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ قَالَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سِتًّا ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِکَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَکَتْ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتْ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِکْهَا قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَی الْآکَامِ وَالْجِبَالِ وَالْآجَامِ وَالظِّرَابِ وَالْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ قَالَ فَانْقَطَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ قَالَ شَرِيکٌ فَسَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ قَالَ لَا أَدْرِي
محمد، ابوضمرہ انس بن عیاض، شریک بن عبد ﷲ بن ابی نمر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ایک شخص جمعہ کے دن اس دروازہ سے مسجد میں داخل ہوا جو منبر کے سامنے تھا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، اس نے کھڑے کھڑے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منہ کیا اور کہا کہ یا رسول ﷲ لوگوں کو مال تباہ ہوگیا، راستے بند ہوگئے اس لیے آپ ﷲ سے دعا کریں کہ بارش برسائے، انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا کہ اے میرے ﷲ ہمیں سیراب کر، اے میرے ﷲ ہمیں سیراب کر، اے میرے ﷲ ہمیں سیراب کر، انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ بخدا اس وقت آسمان پر نہ تو کوئی بادل اور نہ بادل کا کوئی ٹکڑا اور نہ کوئی چیز نظر تی تھی اور نہ ہمارے اور سلع کے درمیان کوئی گھر یا مکان تھا، سلع کے پیچھے سے ڈھال کے برابر ایک ابر کا ٹکڑا نمودار ہوا، جب وہ آسمان کے بیچ میں آیا توہ بدلی پھیل گئی، پھر بارش ہونے لگی، بخدا پھر ہم لوگوں نے ایک ہفتہ تک آفتاب نہیں دیکھا، پھرایک شخص اسی دروازے سے دوسرے جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے وہ شخص آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منہ کرکے کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول ﷲ لوگوں کا مال تباہ ہوگیا اور راستے بند ہوگئے، اس لئے ﷲ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ بارش بند کردے، تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے پھر فرمایا اے ﷲ ہمارے اردگرد برسا، ہم پر نہ برسا اے میرے ﷲ پہاڑوں، ٹیلوں اور وادیوں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا، راوی کا بیان ہے کہ بارش تھم گئی اور ہم دھوپ میں چلتے ہوئے باہر نکلے، شریک کا بیان ہے کہ میں نے انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے پوچھا وہ پہلا ہی آدمی تھا؟ انس نے کہا کہ میں نہیں جانتا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment