Thursday, November 18, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:958


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز استسقاء کا بیان
باب
جمعہ کے خطبہ میں قبلہ کی طرف منہ کیے بغیر بارش کی دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر
958
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شَرِيکٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ جُمُعَةٍ مِنْ بَابٍ کَانَ نَحْوَ دَارِ الْقَضَائِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَکَتْ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعْتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يُغِيثُنَا فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا قَالَ أَنَسٌ وَلَا وَاللَّهِ مَا نَرَی فِي السَّمَائِ مِنْ سَحَابٍ وَلَا قَزَعَةً وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ قَالَ فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ فَلَمَّا تَوَسَّطَتْ السَّمَائَ انْتَشَرَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ فَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سِتًّا ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِکَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَکَتْ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتْ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِکْهَا عَنَّا قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَی الْآکَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ قَالَ فَأَقْلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ قَالَ شَرِيکٌ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ فَقَالَ مَا أَدْرِي
قتیبہ بن سعید، اسمعیل بن جعفر، شریک انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں جمعہ کے دن اس دروازہ سے داخل ہوا جو دارالقضاء کی طرف تھا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، وہ آدمی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اپنا منہ کرکے کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ لوگوں کا مال تباہ ہوگیا، اور راستے بند ہوگئے، اس لیے آپ ﷲ سے دعا فرمائیے کہ بارش نازل فرمائے، میرے ﷲ ہم پر بارش برسا، انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ اس وقت آسمان پر نہ تو بادل اور نہ بادل کا کوئی ٹکڑا نظر آتا تھا اور نہ ہمارے اور سلع کے درمیان کوئی مکان یا گھر تھا، سلع کے پیچھے سے ڈھال کے برابر بدلی کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا، جب وہ بدلی بیچ میں آئی تو پھیل گئی، پھر تو بخدا ہمیں آفتاب ایک ہفتہ تک نظر نہ یا، پھراسی دروازہ سے دوسرے جمعہ کے دن ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، وہ کھڑے کھڑے ہی آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ لوگوں کا مال تباہ ہوگیا اور راستے بند ہوگئے، اس لئے ﷲ سے دعا کیجئے کہ وہ بارش روک دے، راوی نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے پھر فرمایا اے میرے ﷲ ہمارے اردگرد برسا اور ہم پر نہ برسا- اے میرے ﷲ پہاڑوں، ٹیلوں اور وادیوں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا، چنانچہ بارش تھم گئی اور ہم اس حال میں نکلے کہ دھوپ میں چل رہے تھے- شریک نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کیا یہ وہی پہلا آدمی تھا؟ انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نہیں جانتا-




contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment