کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
جو کام حج میں کئے جاتے ہیں وہی کام عمرہ میں بھی کرے۔
حدیث نمبر
1672
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا فَلَا أُرَی عَلَی أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ کَلَّا لَوْ کَانَتْ کَمَا تَقُولُ کَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ کَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ وَکَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ وَکَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا جَائَ الْإِسْلَامُ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا زَادَ سُفْيَانُ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
عبدﷲ بن یوسف، مالک، ہشام بن عروہ، عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا زوجہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے اپنی کم سنی کے زمانے میں پوچھا کہ ﷲ تبارک وتعالی کے قول (ان الصفا و المروۃ من شعائر ﷲ فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما) کی تفسیر بتائیے میں تو سمجھتا ہوں کہ اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جس نے ان دونوں کا طواف نہیں کیاحضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے فرمایا کہ ہرگز نہیں، اگر وہ بات ہوتی، جو تم کہتے ہو تو اس صورت میں آیت اس طرح ہوتی فلا جناح علیہ ان یطوف بھما،، اس پر کوئی گناہ نہیں اگر ان دونوں کا طواف نہ کرے، یہ آیت تو انصار کے متعلق نازل ہوئی جو مناۃ کے لئے احرام باندھتے تھے اور مناۃ قدید کے سامنے تھا وہ لوگ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کو برا سمجھتے تھے، جب اسلام کا زمانہ آیا تو لوگوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے اسکے متعلق پوچھا تو ﷲ تعالی نے یہ آیت نازل کی، صفا اور مروہ دونوں خدا کی نشانیاں ہیں تو جس نے خانہ کعبہ کا حج کیا یا عمرہ کیا تو ان دونوں کے طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں، سفیان اور ابومعاویہ نے ہشام سے اتنا زیادہ بیان کیا کہ ﷲ تعالی نے اس حج اور عمرہ پورا نہیں کیا جس نے صفا مروہ کے درمیان طواف نہیں کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment