Saturday, January 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1702


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
محرم شکار کو دیکھ کر ہنسیں اور غیر محرم سمجھ جائے۔
حدیث نمبر
1702
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ يَحْيَی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ انْطَلَقْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ أُحْرِمْ فَأُنْبِئْنَا بِعَدُوٍّ بِغَيْقَةَ فَتَوَجَّهْنَا نَحْوَهُمْ فَبَصُرَ أَصْحَابِي بِحِمَارِ وَحْشٍ فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَضْحَکُ إِلَی بَعْضٍ فَنَظَرْتُ فَرَأَيْتُهُ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ الْفَرَسَ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي فَأَکَلْنَا مِنْهُ ثُمَّ لَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ عَلَيْهِ شَأْوًا فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ أَيْنَ تَرَکْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَرَکْتُهُ بِتَعْهَنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا فَلَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَکَ أَرْسَلُوا يَقْرَئُونَ عَلَيْکَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَبَرَکَاتِهِ وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يَقْتَطِعَهُمْ الْعَدُوُّ دُونَکَ فَانْظُرْهُمْ فَفَعَلَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا اصَّدْنَا حِمَارَ وَحْشٍ وَإِنَّ عِنْدَنَا فَاضِلَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ کُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ
سعید بن ربیع، علی بن مبارک، یحیی، عبدﷲ بن ابی قتادہ اپنے والد کے متعلق روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم لوگ حدیبیہ کے سال نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ چلے آپ کے صحابہ نے احرام باندھا لیکن میں نے احرام نہیں باندھا ہم کو معلوم ہوا کہ غیقہ میں دشمن موجود ہے تو ہم ان کی طرف متوجہ ہوئے، ہمارے ساتھیوں نے ایک گورخر کو دیکھا ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے میں نے نگاہ اٹھائی تو گورخر دیکھا تو میں نے اس کو نیزہ مارا اور چبھو کر چھوڑ دیا اور ان لوگوں سے مدد چاہی ان لوگوں نے انکار کردیا ہم نے اس کا گوشت کھایا پھر میں رسول ﷲ سے ملا ہم ڈر رہے تھے کہ کہیں آپ سے جدا نہ ہوجائیں، چناچہ میں اپنے گھوڑے کو کبھی تیز کبھی آہستہ دوڑاتا ہوا چلا، وسط شب میں بنی غفار کے ایک شخص سے ملاقات ہوئی میں نے اس سے پوچھا تو نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو کہاں چھوڑا؟ اس نے بتایا کہ تعہن میں چھوڑا آپ سقیا میں قیلولہ کرنے کا ارادہ کر رہے تھے، چناچہ میں رسول ﷲ سے آ کر ملا اور میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ آپ کے صحابہ آپ کی خدمت میں سلام عرض کر رہے ہیں اور وہ ڈر رہے ہیں کہ کہیں دشمن آپ کے اور ان کے درمیان حائل نہ ہوجائیں اس لئے آپ ان لوگوں کا انتظار کریں اس لئے آپ نے انتظار کیا، پھر میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ ہم نے ایک گورخر شکار کیا ہے اور ہمارے پاس اس کا کچھ بچا ہوا گوشت ہے، رسول ﷲ نے اپنے صحابہ کو فرمایا کہ اس کو کھاؤ حالانکہ وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment