کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
حرم اور مکہ میں بغیراحرام باندھے ہوئے داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر
1725
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ هُنَّ لَهُنَّ وَلِکُلِّ آتٍ أَتَی عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ کَانَ دُونَ ذَلِکَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّی أَهْلُ مَکَّةَ مِنْ مَکَّةَ
مسلم، وہیب، ابن طاؤس اپنے والد سے وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ اور اہل نجد کے لیے قرن منازل اور اہل یمن کے لیے یلمیلم میقات مقرر کیے یہ وہاں کے رہنے والوں کے لیے بھی اور ان کے لیے بھی میقات ہیں جو ان کے علاوہ دوسری جگہوں سے حج یا عمرہ کے ارادے سے آئیں اور جو شخص ان جگہوں کے اندر رہنے والا ہو تو وہ وہیں سے احرام باندھ لیں جہاں سے نکلے یہاں تک کہ اہل مکہ، مکہ ہی سے احرام باندھ کر نکلے۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment