Saturday, January 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1767


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
یہ باب ترجمۃ الباب سے خالی ہے
حدیث نمبر
1767
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِکَ أَبُو بَکْرٍ وَبِلَالٌ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّی يَقُولُ کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِهِ وَکَانَ بِلَالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ الْحُمَّی يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ يَقُولُ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَ اللَّهُمَّ الْعَنْ شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ کَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ أَرْضِنَا إِلَی أَرْضِ الْوَبَائِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ کَحُبِّنَا مَکَّةَ أَوْ أَشَدَّ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَفِي مُدِّنَا وَصَحِّحْهَا لَنَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَی الْجُحْفَةِ قَالَتْ وَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللَّهِ قَالَتْ فَکَانَ بُطْحَانُ يَجْرِي نَجْلًا تَعْنِي مَائً آجِنًا
عبید بن اسمعیل، ابواسامہ، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر رضی ﷲ عنہ اور بلال رضی ﷲ عنہ کو بخار آ گیا اور حضرت ابوبکر کو جب بخار آتا تو یہ شعر پڑھتے ہر شخص اپنے گھر میں صبح کرتا ہے- حالانکہ موت اسکی جوتوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور بلال کا جب بخار اترتا تو بلند آواز سے یہ شعر پڑھتے کاش میں وادی مکہ میں ایک رات پھر رہتا اس حال میں کہ میرے ارد گرد اذخر اور جلیل گھاس ہوتی، کاش میں ایک دن مجنہ کا پانی پی لیتا اور کاش میں شامہ اور طفیل کو پھر دیکھ لیتا- کہا یا ﷲ شیبہ بن ربیعہ اور عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت کر، جس طرح ان لوگوں نے ہم کو ہمارے وطن سے وبا کی زمین کی طرف دھکیل دیا- یہ سن کر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی یا ﷲ ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت پیدا کر- جس طرح ہمیں مکہ سے محبت ہے یا اس سے زیادہ (محبت پیدا کر) یا ﷲ ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطاء کر اور یہاں کی آب و ہوا ہمارے مناسب کر اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف منتقل کر- عائشہ رضی ﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو وہ ﷲ کی زمین میں سب سے زیادہ وبا والی زمین تھی اور وہاں بطحان ایک نالہ تھا جس سے بدبو دار پانی تھوڑا تھوڑا بہتا رہتا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment