کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خرید و فروخت کا بیان
باب
جولاہے کا بیان۔
حدیث نمبر
1960
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ بِبُرْدَةٍ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ فَقِيلَ لَهُ نَعَمْ هِيَ الشَّمْلَةُ مَنْسُوجٌ فِي حَاشِيَتِهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي أَکْسُوکَهَا فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا إِزَارُهُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ اکْسُنِيهَا فَقَالَ نَعَمْ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ ثُمَّ رَجَعَ فَطَوَاهَا ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ مَا أَحْسَنْتَ سَأَلْتَهَا إِيَّاهُ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا فَقَالَ الرَّجُلُ وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِتَکُونَ کَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ قَالَ سَهْلٌ فَکَانَتْ کَفَنَهُ
یحیی بن بکیر، یعقوب بن عبدالرحمن، ابوحازم، سہل بن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت ایک بردہ لے کر آئی، سہل نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ بردہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں ایک چادر ہے جس کے نیچے حاشیے بنے ہوئے ہوتے ہیں، اس نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم میں نے اس کو اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ آپ کو پہناؤں، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کو لے لیا اور اس وقت اس کی آپ کو ضرورت بھی تھی، پھر آپ ہمارے پاس آئے وہ چادر آپ کی تہہ بند تھی جماعت میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول ﷲ یہ چادر ہمیں عنایت کر دیں، تو آپ نے فرمایا کہ اچھا نبی صلی ﷲ علیہ وسلم تھوڑی دیر اس مجلس میں بیٹھے اور پھر اندر گئے اور اس چادر کو لپیٹ کر اس کے پاس بھیج دیا تو لوگوں نے اس سے کہا کہ تو نے اچھا نہیں کیا تو نے چادر مانگ لی حالانکہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کسی سائل کو رد نہیں کرتے اس نے جواب دیا کہ بخدا میں نے تو صرف اس لئے مانگا کہ جب میں مر جاؤں تو میرا کفن بن جائے، سہل کا بیان ہے کہ وہی چادر اس کا کفن ہوئی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment