حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسًا فِي الْقِسْمَةِ فَأَعْطَی الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَأَعْطَی عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِکَ وَأَعْطَی أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ فَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ قَالَ رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ مَا عُدِلَ فِيهَا وَمَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ رَحِمَ اللَّهُ مُوسَی قَدْ أُوذِيَ بِأَکْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ
عثمان جریر منصور ابووائل حضرت عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ یوم حنین میں رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں میں حصے تقسیم فرمائے اقرع بن حابس کو سو اونٹ دیئے اور عیینہ کو بھی اتنے ہی دیئے اور دوسرے معززین عرب کو بھی حصے دیئے اور ان کو حصے دینے میں ترجیح دی تو ایک آدمی نے کہا ﷲ کی قسم اس تقسیم میں انصاف کو بروئے کار نہیں لایا گیا اور اس میں ﷲ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود نظر نہیں رکھی گئی تو میں نے کہا ﷲ کی قسم رسالت مآب کو اس کی اطلاع دیتا ہوں چناچہ میں نے جا کر سرور عالم سے پورا ماجرا عرض کیا تو فرمایا ﷲ تعالیٰ اور اس کا رسول اگر انصاف نہ کریں گے تو اور کون ہے جو انصاف کرے گا- ﷲ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر مہربانی کرے انہیں تو اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی اور انہوں نے صبر سے کام لیا
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا مؤلفتہ القلوب وغیر ہ کو خمس یا اسی طر ح کے دوسرے مال میں سے دینے کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 389
ٹوٹل حدیث نمبر 2925
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
عثمان جریر منصور ابووائل حضرت عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ یوم حنین میں رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں میں حصے تقسیم فرمائے اقرع بن حابس کو سو اونٹ دیئے اور عیینہ کو بھی اتنے ہی دیئے اور دوسرے معززین عرب کو بھی حصے دیئے اور ان کو حصے دینے میں ترجیح دی تو ایک آدمی نے کہا ﷲ کی قسم اس تقسیم میں انصاف کو بروئے کار نہیں لایا گیا اور اس میں ﷲ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود نظر نہیں رکھی گئی تو میں نے کہا ﷲ کی قسم رسالت مآب کو اس کی اطلاع دیتا ہوں چناچہ میں نے جا کر سرور عالم سے پورا ماجرا عرض کیا تو فرمایا ﷲ تعالیٰ اور اس کا رسول اگر انصاف نہ کریں گے تو اور کون ہے جو انصاف کرے گا- ﷲ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر مہربانی کرے انہیں تو اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی اور انہوں نے صبر سے کام لیا
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا مؤلفتہ القلوب وغیر ہ کو خمس یا اسی طر ح کے دوسرے مال میں سے دینے کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 389
ٹوٹل حدیث نمبر 2925
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment