حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ظِلِّ الْکَعْبَةِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَنَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَنُحِرَتْ جَزُورٌ بِنَاحِيَةِ مَکَّةَ فَأَرْسَلُوا فَجَائُوا مِنْ سَلَاهَا وَطَرَحُوهُ عَلَيْهِ فَجَائَتْ فَاطِمَةُ فَأَلْقَتْهُ عَنْهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ لِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ فِي قَلِيبِ بَدْرٍ قَتْلَی قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَنَسِيتُ السَّابِعَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ يُوسُفُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ وَقَالَ شُعْبَةُ أُمَيَّةُ أَوْ أُبَيٌّ وَالصَّحِيحُ أُمَيَّةُ
عبد ﷲ بن ابی شیبہ، جعفر بن عون، سفیان، ابواسحق عمروبن میمون، عبدﷲ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ایک دن کعبہ کے سا یہ میں نماز پڑھ رہے تھے ابوجہل نے اور قریش کے چند لوگوں نے با ہم مشورہ کیا، مکہ سے با ہر ایک او نٹنی ذبح کی گئی تھی، ان لوگوں نے ایک آد می بھیجا اور اس کی او جھ لے آئے، اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر اس کو ڈال دیا پھر حضرت فاطمہ آئیں اور انہوں نے اسے او پر سے ہٹا یا، اور آپ نے فرمایا کہ اے ﷲ! قریش کی گر فت کر اے ﷲ قریش کی گر فت کر، اے ﷲ قریش کی گر فت کر، ابوجہل بن ہشام اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ اور ابی بن خلف اور عتبہ بن ابی معیط کیلئے آپ نے یہ بدد عا کی تھی عبدﷲ بن مسعود کہتے تھے کہ خدا کی قسم میں نے ان کو بدر کے کنویں میں مقتول پڑا دیکھا، اور ابواسحق نے کہا کہ میں ساتواں بھول گیا اور یو سف بن ابی اسحق نے ابواسحاق کے وا سطہ سے امیہ بن خلف کا نام لیا، اور شعبہ نے امیہ یا ابی کہا اور صحیح امیہ ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = مشرکوں کیلئے شکست اور زلزلہ کی بد دعا کرنے کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 193
ٹوٹل حدیث نمبر 2729
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
عبد ﷲ بن ابی شیبہ، جعفر بن عون، سفیان، ابواسحق عمروبن میمون، عبدﷲ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ایک دن کعبہ کے سا یہ میں نماز پڑھ رہے تھے ابوجہل نے اور قریش کے چند لوگوں نے با ہم مشورہ کیا، مکہ سے با ہر ایک او نٹنی ذبح کی گئی تھی، ان لوگوں نے ایک آد می بھیجا اور اس کی او جھ لے آئے، اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر اس کو ڈال دیا پھر حضرت فاطمہ آئیں اور انہوں نے اسے او پر سے ہٹا یا، اور آپ نے فرمایا کہ اے ﷲ! قریش کی گر فت کر اے ﷲ قریش کی گر فت کر، اے ﷲ قریش کی گر فت کر، ابوجہل بن ہشام اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ اور ابی بن خلف اور عتبہ بن ابی معیط کیلئے آپ نے یہ بدد عا کی تھی عبدﷲ بن مسعود کہتے تھے کہ خدا کی قسم میں نے ان کو بدر کے کنویں میں مقتول پڑا دیکھا، اور ابواسحق نے کہا کہ میں ساتواں بھول گیا اور یو سف بن ابی اسحق نے ابواسحاق کے وا سطہ سے امیہ بن خلف کا نام لیا، اور شعبہ نے امیہ یا ابی کہا اور صحیح امیہ ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = مشرکوں کیلئے شکست اور زلزلہ کی بد دعا کرنے کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 193
ٹوٹل حدیث نمبر 2729
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment