کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
بارش اور عذر کی بناء پر گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت کا بیان
حدیث نمبر
633
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَی وَأَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا تَکُونُ الظُّلْمَةُ وَالسَّيْلُ وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَصَلِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي بَيْتِي مَکَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلَّی فَجَائَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فَأَشَارَ إِلَی مَکَانٍ مِنْ الْبَيْتِ فَصَلَّی فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسمعیل، مالک ابن شہاب، محمود بن ربیع انصاری، روایت کرتے ہیں کہ عتبان اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے چونکہ وہ نابینا تھے انہوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کبھی اندھیرا ہوتا ہے اور پانی بہتا ہوتا ہے اور میں اندھا آدمی ہوں اس وقت نہیں آسکتا تو یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھا دیجئے تاکہ میں اس کو مصلے بنالوں پس رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا جہاں تم کہو نماز پڑھ دوں انہوں نے گھر کے ایک مقام کی طرف اشارہ کر دیا وہاں رسول للہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment