کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
امام اسی لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے
حدیث نمبر
653
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاکٍ فَصَلَّی جَالِسًا وَصَلَّی وَرَائَهُ قَوْمٌ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اجْلِسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُوْنَ
عبدﷲ بن یوسف، مالک، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بحالت مرض اپنے گھر ہی میں بیٹھ کر نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو آپ نے یہ دیکھ کر ان سے ارشاد فرمایا کہ بیٹھ جاؤ پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ امام اسی لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی (رکوع کرو) اورجب وہ (سر) اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ، اورجب وہ (سمع ﷲ حمدہ) کہے تو تم (ربنا ولک الحمد) کہو اورجب وہ بیٹھ کر کہے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment