کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
جوشخص اپنے امام کی جب وہ نماز میں طوالت کرتا ہو تو شکایت کرے۔
حدیث نمبر
668
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ الصَّلَاةِ فِي الْفَجْرِ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فُلَانٌ فِيهَا فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ کَانَ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْکُمْ مُنَفِّرِينَ فَمَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيَتَجَوَّزْ فَإِنَّ خَلْفَهُ الضَّعِيفَ وَالْکَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ
محمدبن یوسف، سفیان، اسماعیل بن ابی خالد، قیس بن ابی حازم، ابومسعود روایت کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) ایک شخص نے آکر کہا کہ یا رسول ﷲ میں نماز فجر سے رہ جاتا ہوں کیونکہ نماز میں فلاں شخص طول دیتا ہے پس رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم غضب ناک ہوئے کہ میں نے آپ کو اس دن سے زیادہ غصہ آتے ہوئے کسی نصیحت کے وقت نہیں دیکھا اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ لوگوں تم میں سے کچھ لوگ (آدمیوں کو) عبادت سے متنفر کرتے ہیں تو جو شخض لوگوں کا امام ہے اس کوتخفیف کرنا چاہیے کیونکہ اس کے پیچھے کمزور اور بوڑھے اور صاحب حاجت (سب ہی) ہوتے ہیں۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment