Saturday, November 13, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:718


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
تمام نمازوں میں خواہ وہ سفر میں ہوں یا حضر میں سری ہوں یا جہری ہوں، امام اور مقتدی کے لیے قرأت کے واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر
718
حَدَّثَنَا مُوسَی قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ شَکَا أَهْلُ الْکُوفَةِ سَعْدًا إِلَی عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَزَلَهُ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَمَّارًا فَشَکَوْا حَتَّی ذَکَرُوا أَنَّهُ لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ هَؤُلَائِ يَزْعُمُونَ أَنَّکَ لَا تُحْسِنُ تُصَلِّي قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَمَّا أَنَا وَاللَّهِ فَإِنِّي کُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْرِمُ عَنْهَا أُصَلِّي صَلَاةَ الْعِشَائِ فَأَرْکُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأُخِفُّ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَالَ ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ فَأَرْسَلَ مَعَهُ رَجُلًا أَوْ رِجَالًا إِلَی الْکُوفَةِ فَسَأَلَ عَنْهُ أَهْلَ الْکُوفَةِ وَلَمْ يَدَعْ مَسْجِدًا إِلَّا سَأَلَ عَنْهُ وَيُثْنُونَ مَعْرُوفًا حَتَّی دَخَلَ مَسْجِدًا لِبَنِي عَبْسٍ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ أُسَامَةُ بْنُ قَتَادَةَ يُکْنَی أَبَا سَعْدَةَ قَالَ أَمَّا إِذْ نَشَدْتَنَا فَإِنَّ سَعْدًا کَانَ لَا يَسِيرُ بِالسَّرِيَّةِ وَلَا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ وَلَا يَعْدِلُ فِي الْقَضِيَّةِ قَالَ سَعْدٌ أَمَا وَاللَّهِ لَأَدْعُوَنَّ بِثَلَاثٍ اللَّهُمَّ إِنْ کَانَ عَبْدُکَ هَذَا کَاذِبًا قَامَ رِيَائً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهُ وَأَطِلْ فَقْرَهُ وَعَرِّضْهُ بِالْفِتَنِ وَکَانَ بَعْدُ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ شَيْخٌ کَبِيرٌ مَفْتُونٌ أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعْدٍ قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ فَأَنَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَی عَيْنَيْهِ مِنْ الْکِبَرِ وَإِنَّهُ لَيَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِي فِي الطُّرُقِ يَغْمِزُهُنَّ
موسیٰ، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر، جابر بن سمرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اہل کوفہ نے عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی شکایت کی تو عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے سعد کو معزول کر دیا، اور عمار رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو ان لوگوں کا حاکم بنایا ان لوگوں نے (سعد کی بہت سی) شکایتیں کیں، یہاں تک کہ بیان کیا کہ وہ نماز اچھی طرح نہیں پڑھتے، تو عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کو بلا بھیجا اور کہا کہ اے اسحاق! یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم نماز اچھی طرح نہیں پڑھتے، انہوں نے کہا سنو! خدا کی قسم! ان کے ساتھ میں نے ویسی نماز ادا کی ہے جیسے حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ہوتی تھی، چناچہ پہلی دو رکعتوں میں زیادہ دیر لگاتا تھا اور اخیر کی دو رکعت میں تخفیف کرتا تھا- عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے ابواسحاق! تم سے یہی امید تھی، پھر عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص یا چند شخصوں کو سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ کوفہ بھیجا، تاکہ وہ کوفہ والوں سے سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی بابت پوچھیں (چناچہ وہ گئے) اور انہوں نے کوئی مسجد نہیں چھوڑی کہ جس میں سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی کیفیت نہ پوچھی ہو اور سب لوگ ان کی عمدہ تعریف کرتے رہے یہاں تک کہ نبی عبس کی مسجد میں گئے تو ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوگیا، اس کو اسامہ بن قتادہ کہتے تھے کنیت اس کی ابوسعدہ تھی اس نے کہا کہ سنو! جب تم نے ہمیں قسم دلائی تو مجبور ہوکر میں کہتا ہوں کہ سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ لشکر کے ہمراہ جہاد کو خود نہ جاتے تھے اور غنیمت کی تقسیم برابر نہ کرتے تھے سعد (یہ سن کر) کہنے لگے کہ دیکھ میں تین بددعائیں تجھ کو دیتا ہوں اے ﷲ! اگر یہ تیر بندہ جھوٹا ہو نمود و نمائش کے لئے اس وقت کھڑا ہوا ہو تو اس کی عمر بڑھا دے اور اس کو فقر میں مبتلا کر، اور اس کو فتنوں میں مبتلا کردے، چناچہ ایسا ہی ہوا اور اس کے بعد جب اس سے (اس کا حال) پوچھا جاتا تھا تو کہتا ایک بڑی عمر والا بوڑھا ہوں، فتنوں میں مبتلا مجھے سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی بددعا لگ گئی- عبد الملک (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ میں نے اس کو دیکھا ہے، اس کی دونوں ابرو اس کی آنکھوں پر بڑھاپے کے سبب سے جھک پڑی ہیں، وہ راستوں میں لڑکیوں کو چھیڑتا ہے، ان پر دست درازی کرتا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment