کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
ان روایتوں کا بیان کہ کچے لہسن اور پیاز اور گندم کے بارے میں بیان کی گئی ہیں۔
حدیث نمبر
811
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ زَعَمَ عَطَائٌ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ زَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ قَالَ فَلْيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنْ الْبُقُولِ فَقَالَ قَرِّبُوهَا إِلَی بَعْضِ أَصْحَابِهِ کَانَ مَعَهُ فَلَمَّا رَآهُ کَرِهَ أَکْلَهَا قَالَ کُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ أُتِيَ بِبَدْرٍ وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ يَعْنِي طَبَقًا فِيهِ خَضِرَاتٌ وَلَمْ يَذْکُرِ اللَّيْثُ وَأَبُو صَفْوَانَ عَنْ يُونُسَ قِصَّةَ الْقِدْرِ فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَوْ فِي الْحَدِيثِ
سعید بن عفیر، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عطاء، جابر بن عبد ﷲ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے علیحدہ رہے یا (یہ فرمایا کہ) ہماری مسجد سے علیحدہ رہے اور اپنے گھر میں بیٹھے (ایک مرتبہ) نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دیگ لائی گئی جس میں چند سبز ترکاریاں (پکی ہوئی) تھیں، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں کچھ بو پائی، تو دریافت فرمایا کہ اس میں کیا ہے؟ تو جتنی ترکاریاں اس میں تھیں وہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو بتا دی گئیں، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے میرے بعض اصحاب کی طرف(جو اس وقت) آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے قریب کر دو، کیونکہ جب آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو اس کا کھانا ناپسند کیا اور فرمایا تم کھاؤ (میں نہ کھاؤں گا) کیونکہ میں اس ذات سے مناجات کرتا ہوں جس سے تم مناجات نہیں کرتے، اور احمد بن صالح نے ابن وہب سے یوں نقل کیا ہے کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک برتن لا گیا یعنی طباق جس میں ترکاریاں تھیں، اور لیث اور ابوصفوان نے یونس سے ہانڈی کا قصہ بیان کیا، امام بخاری نے کہا میں نہیں جانتا یہ زہری کا کلام ہے یا حدیث ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment