کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
بچوں کے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
819
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَهُ رَجُلٌ شَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا مَکَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ أَتَی الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ کَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَی النِّسَائَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَکَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُهْوِي بِيَدِهَا إِلَی حَلْقِهَا تُلْقِي فِي ثَوْبِ بِلَالٍ ثُمَّ أَتَی هُوَ وَبِلَالٌ الْبَيْتَ
عمروبن علی، یحییٰ، سفیان، عبدالرحمن بن عابس روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے ایک شخص نے کہا کہ کیا تم نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ (عید گاہ) جانے کیلئے حاضر ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں اگر میری قرابت آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے نہ ہوتی تو میں حاضر نہ ہوسکتا (یعنی کمسنی کے سبب سے) آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس ہے، پھرآپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ پڑھ اس کے بعد عورتوں کے پاس آئے، اور انہیں نصیحت کی، اور ان کو (خدا کے احکام کی) یاد دلائیں، اور انہیں حکم دیا کہ صدقیہ دیں، پس کوئی عورت اپنا ہاتھ اپنی انگوٹھی کی طرف بڑھانے لگی اور کوئی اپنی بالی کی طرف اور کوئی کسی زیورکی طرف اور (اس کو اتارکر) بلال رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی چادر میں ڈالنے لگیں پھر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور بلال رضی ﷲ تعالیٰ عنہ گھر تک آئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment