کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جمعہ کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جس نے ثناء کے بعد خطبہ میں اما بعد کہا۔
حدیث نمبر
879
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِيلِ قَالَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ وَکَانَ آخِرَ مَجْلِسٍ جَلَسَهُ مُتَعَطِّفًا مِلْحَفَةً عَلَی مَنْکِبَيْهِ قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ بِعِصَابَةٍ دَسِمَةٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِلَيَّ فَثَابُوا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ الْأَنْصَارِ يَقِلُّونَ وَيَکْثُرُ النَّاسُ فَمَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَطَاعَ أَنْ يَضُرَّ فِيهِ أَحَدًا أَوْ يَنْفَعَ فِيهِ أَحَدًا فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيِّهِمْ
اسمعیل بن ابان، ابن الغسیل، عکرمہ، ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم منبر پر چڑھے، اور یہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی آخری مجلس تھی، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے اس حال میں کہ اپنے دونوں مونڈھوں پر چار لپیٹے ہوئے تھے، اور اپنے سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے، ﷲ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا کہ اے لوگو میرے پاس تو لوگ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئے، پھر فرمایا، امابعد یہ انصار کی جماعت کم ہوتی جائے گی اور لوگ زیادہ ہوجائیں گے، اس لئے امت محمدیہ میں سے جو شخص حاکم بنایا جائے اور وہ کسی کو نقصان پہنچائے یا نفع پہنچانے پر قادر ہو، تو انصار کے نیکو کاروں کی نیکی (بھلائی) کو قبول کرے اور بروں کی برائی سے درگذر کرے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment