کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عیدین کا بیان
باب
منیٰ کے دنوں میں تکبیر کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر
919
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ کُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نَخْرُجَ يَوْمَ الْعِيدِ حَتَّی نُخْرِجَ الْبِکْرَ مِنْ خِدْرِهَا حَتَّی نُخْرِجَ الْحُيَّضَ فَيَکُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُکَبِّرْنَ بِتَکْبِيرِهِمْ وَيَدْعُونَ بِدُعَائِهِمْ يَرْجُونَ بَرَکَةَ ذَلِکَ الْيَوْمِ وَطُهْرَتَهُ
محمد، عمرو بن حفص، حفص، عاصم، حفصہ، ام عطیہ سے روایت کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ عید کے دن گھر سے نکلیں، یہاں تک کہ کنواری عورتیں بھی اپنے پردہ سے باہر ہوتیں اور حائضہ عورتیں بھی گھر سے باہر نکلتیں، پس وہ مردوں کے پیچھے رہتیں اور مردوں کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہتیں اور ان کی دعاؤں کے ساتھ دعا کہتیں، اس دن کی برکت اور اس کی پاکی کی امید رکھتیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment