کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عیدین کا بیان
باب
امام کا عید کے دن عورتوں کو نصیحت کرنے کا بیان
حدیث نمبر
926
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّی فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ خَطَبَ فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ فَأَتَی النِّسَائَ فَذَکَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَکَّأُ عَلَی يَدِ بِلَالٍ وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِي فِيهِ النِّسَائُ الصَّدَقَةَ قُلْتُ لِعَطَائٍ زَکَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ قَالَ لَا وَلَکِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ حِينَئِذٍ تُلْقِي فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ قُلْتُ أَتُرَی حَقًّا عَلَی الْإِمَامِ ذَلِکَ وَيُذَکِّرُهُنَّ قَالَ إِنَّهُ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَهُ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ شَهِدْتُ الْفِطْرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يُصَلُّونَهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يُخْطَبُ بَعْدُ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّی جَائَ النِّسَائَ مَعَهُ بِلَالٌ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَکَ الْآيَةَ ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا آنْتُنَّ عَلَی ذَلِکِ قَالَتْ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا نَعَمْ لَا يَدْرِي حَسَنٌ مَنْ هِيَ قَالَ فَتَصَدَّقْنَ فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ هَلُمَّ لَکُنَّ فِدَائٌ أَبِي وَأُمِّي فَيُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ الْفَتَخُ الْخَوَاتِيمُ الْعِظَامُ کَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ
اسحٰق بن ابراہیم بن نصر، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، جابر بن عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی، پہلے تو نماز پڑھی پھر خطبہ کہا- جب خطبہ سے فارغ ہوئے تو منبر سے نیچے اترے اور عورتوں کے پاس آئے اور انہیں نصیحت کی، اس حال میں کہ بلال کے ہاتھ پر ٹیکا دیئے ہوئے تھے اور بلال اپنے کپڑے پھیلائے ہوئے تھے جس میں عورتیں خیرات ڈال رہی تھیں- میں نے عطاء سے پوچھا کیا صدقہ فطر دے رہی تھیں؟ تو انہوں نے کہا نہیں بلکہ خیرات کر رہی تھیں، اس وقت اگر ایک عورت اپنا چھلا ڈالتی تو دوسری بھی ڈالتیں، میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ کے خیال میں امام پر یہ واجب ہے کہ وہ عورتوں کو نصیحت کرے؟ انہوں نے نے کہا کہ بلاشبہ یہ واجب ہے، انہیں کیا ہوگیا ہے کہ ایسا نہیں کرتے، ابن جریج نے کہا کہ مجھ سے حسن بن مسلم نے بہ سند طاؤس، عباس بیان کیا کہ ابن عباس نے کہا کہ میں عیدالفطر میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ وعمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ و عثمان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ شریک ہوا- سب کے سب قبل خطبہ نماز پڑھتے پھر خطبہ دیتے، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نکلے، گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں، جب آپ لوگوں کو اپنے ہاتھوں کے اشارہ سے بٹھلا رہے تھے، پھر آپ ان صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے، یہاں تک کہ عورتوں کے پاس پہنچ گئے اور آپ کے ساتھ بلال رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تھے آپ نے یا ایہا النبی اذاجائک الخ آخر تک پڑھی پھر جب اس سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ تم اس پر قائم رہو، تو ان عورتوں میں سے صرف ایک عورت نے کہا ہاں، اور اس کے علاوہ کسی عورت نے آپ کی بات کا جواب نہیں دیا- حسن کو معلوم نہیں کہ وہ کون عورت تھی- آپ نے فرمایا تو تم لوگ خیرات کرو اور بلال رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے کپڑے پھیلا دیئے اور کہا تم لوگ لاؤ، میرے ماں باپ تم پر نثار ہوں، تو وہ عورتیں اپنی انگوٹھیاں اور چھلے بلال رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں، عبدالرزاق نے کہا کہ فتخ سے مراد بڑی انگوٹھیاں ہیں جن کا رواج عہد جاہلیت میں تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment