Saturday, March 19, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:217, Total Hadith no: 2753

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَکَانَ کَاتِبًا لَهُ قَالَ کَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَرَأْتُهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا انْتَظَرَ حَتَّی مَالَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ

عبد ﷲ معاذ ابواسحق موسیٰ سالم حضرت عمرو بن عبید ﷲ کے آزار کردہ غلام ابوالنضر سے روایت کرتے ہیں کہ عبد ﷲ بن ابی اوفی نے ایک خط بھیجا جس کو میں نے پرھا تھا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ دوران جہاد میں سورج ڈھلنے کے منتظر رہے اور آفتاب ڈھل جانے کے بعد آپ نے لوگوں میں کھڑے ہوکر فرمایا کہ اے لوگو! تم دشمن سے دوبدو ہونے کی خواہش نہ کرو اور ﷲ تعالیٰ سے عافتی و سلامتی طلب کرو اور جب تم دشمن سے مقابلہ کرو تو صبر کرو اور سمجھ لو کہ جنت تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے- پھر فرمایا کہ اے ﷲ کتاب نازل فرمانے والے اور بادلوں کو چلانے والے اور کافروں کو لرزاں وخیزاں بھگانے والے مالک تو ان کافروں کو شکست دے دے اور ہم کو ان پر فتح عنایت فرما



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم جب دن میں اول وقت لڑائی نہ کرتے تو پھر سور ج کے ڈھلنے تک لڑائی کو موخر کردیتے تھے۔
جلد نمبر  2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر  217
ٹوٹل حدیث نمبر  2753


contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment